data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) سندھی نیشنل کانگریس کے طالب علم رہنما غنی امان چانڈیو کی بازیابی کے لیے وکلا اور سندھی نیشنل کانگریس نے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے الگ الگ احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرے میں غنی امان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی گئی۔ اس موقع پر سندھی نیشنل کانگریس کے مرکزی چیف آرگنائزر ایڈوکیٹ محب آزاد، ایڈووکیٹ سجاد چانڈیو، ایڈووکیٹ میرمنگریو، ایڈوکیٹ اسرار چانگ، اعزاز لغاری اور دیگر نے کہا کہ غنی امان کی بیٹی کئی دنوں سے کراچی کے مقامی اسپتال میں زیر علاج ہے، اور وہ اسے دیکھنے کے لیے وہاں موجود تھی،جہاں سے انہیں قانون نافذ کرنے والے ادارو نے گرفتار کیا اور لاپتہ کردیا جس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں ہے ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ طالب علم رہنما غنی امان چانڈیو ایک پرامن سیاسی طالب علم رہنما اور شاہ لطیف کا دوست ہے۔ وہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں جاتا ہے اور طلباء کو لطیف پڑھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غنی امان چانڈیو نے ایک باشعور طالب علم رہنما کی حیثیت سے ہمیشہ قومی مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی گمشدگی نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ تمام سیاسی شعور رکھنے والے نوجوانوں میں تشویش اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی اور قانونی ذرائع سے حقوق کی بات کرنا جرم نہیں ہے۔ اگر غنی امان پر کسی قسم کا الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے۔ جبری گمشدگی انسانی حقوق اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، غنی امان چانڈیو کی فوری شناخت کی جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ غنی امان چانڈیو طالب علم رہنما نیشنل کانگریس

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے