پاکستان بار کونسل الیکشن ،23 نشستوں میں 16 پر انڈیپینڈنٹ گروپ کامیاب: اعظم نذیر بھی منتخب
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نوائے وقت رپورٹ) پاکستان بار کونسل کے انتخابات میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے منسلک انڈیپینڈنٹ گروپ نے23 میں سے16 نشستیں حاصل کر لیں۔ پنجاب کی 11 نشستوں میں آٹھ پر انڈیپنڈنٹ (عاصمہ جہانگیر) گروپ نے کامیابی حاصل کی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ‘ احسن بھون‘ طاہر نصراللہ وڑائچ، عامر سعید راں، پیر مسعود چشتی، ثاقب اکرم گوندل، حفیظ الرحمان چودھری، سید قلب حسن، سلمان اکرم راجہ، شفقت چوہان ممبر پاکستان بار کونسل منتخب ہو گئے۔ پنجاب کی 11 ویں نشست کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ واضح رہے کہ حامد خان گروپ نے پنجاب میں صرف 2 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ سندھ کی 6 نشستوں پر فاروق نائیک‘ عابد زبیری‘ صلاح الدین احمد‘ منیر ملک‘ عبیداﷲ میمن اور سلیم منگریو ممبر منتخب ہو گئے۔ رضوان عباسی اسلام آباد سے پاکستان بار کونسل کی نشست پر کامیاب ہو گئے۔ دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان بار کونسل کے انتخابات میں انڈیپنڈنٹ گروپ کو کامیابی اور احسن بھون‘ اعظم نذیر تارڑ کو ممبر پاکستان بار کونسل منتخب ہونے پر بھی مبارکاد دیتے ہوئے کہا، وکلاء مسائل کے حل اور آئین و قانون کی بالادستی کیلئے سنجیدہ قیادت کے خواہاں ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ ہمیشہ وکلاء برادری کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں۔ حکومت وکلاء برادری کو ریاست کا اہم ستون سمجھتی ہے۔ بار اور بنچ کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کیلئے تعاون جاری رکھا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔