خیبر پختونخوا کی مختصر کابینہ آج تشکیل دیے جانے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
پشاور:
قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد خیبر پختونخوا کی مختصر کابینہ آج تشکیل دینے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے مشاورت کے بعد 10 رکنی کابینہ کو حتمی شکل دے دی جس میں 8 وزراء، ایک اسپیشل اسسٹنٹ اور ایک معاون خصوصی شامل ہے۔
کابینہ میں معاون خصوصی کو اطلاعات کا محکمہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سابق صوبائی وزیر مینا خان نے تصدیق کی کہ مختصر کابینہ آج تشکیل دی جا رہی ہے، بانی چیئرمین سے مشاورت کے بعد کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی نے 15 اکتوبر کو وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا لیکن فوری طور پر کابینہ تشکیل نہیں دی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ کا موقف تھا کہ کابینہ کی تشکیل کے لیے عمران خان سے ملاقات ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔