ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
ناران ( نیوزڈیسک) گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے سیاحتی علاقوں میں برفباری سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔
گلگت بلتستان کے پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا، بابوسر، نانگا پربت اور بٹوگاہ کی چوٹیوں پر برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، 12 سے زائد گاڑیاں برف میں پھنس گئیں۔
ادھر خیبر پختونخوا کے علاقے سوات، دیر اور کالام کے پہاڑوں پر بھی برفباری ہوئی جبکہ اپر ہزارہ ڈویژن میں موسم سرما کی پہلی بارش اور ژالہ باری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا، دن کے وقت بھی رات کا سماں رہا۔
ایوبیہ، نتھیا گلی اور چھانگلہ گلی سمیت بالائی گلیات میں 2 سے 3 انچ تک برف پڑ چکی ہے۔
دوسری جانب مظفرآباد سے وادی نیلم تک بارش اور برفباری سےموسم مزید سرد ہوگیا، انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں آج بھی وقفے وقفے سے بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی کی ہے، تمام اضلاع کی انتظامیہ کو پیشگی اقدامات سے متعلق الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔