عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی
بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عدالت کو اپنا مفصل جواب جمع کرا دیا ہے ۔جیل حکام کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے اور اس حوالے سے کی جانے والی تمام قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اپنے جواب میں واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں اور ان کے پاس موبائل فون سمیت کسی بھی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ موبائل سمیت کوئی بھی ممنوع چیز جیل رولز کے تحت قابلِ اجازت نہیں ،اڈیالہ جیل کے اندر موبائل فون سگنلز جیمر نصب ہیں، جس کے باعث جیل کے اندر اور اطراف میں موبائل سگنلز مکمل طور پر بند رہتے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے جواب میں بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان پر تعینات اسٹاف کو مستقل طور پر سرچ کیا جاتا ہے ، اس لیے ان کے پاس کسی بھی ممنوع سہولت تک رسائی ممکن نہیں۔ جیل رول 265 قیدی بانی پی ٹی آئی کو سیاسی گفتگو سے بھی روکتا ہے ، تاہم جیل ٹرائل کے دوران ان سے ملنے والی فیملی اور وکلا بعض اوقات قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی بحث مباحثے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔سپرنٹنڈنٹ جیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں بانی پی ٹی آئی کی جانب سے جیل سے دی گئی سیاسی ہدایات نے کئی مواقع پر معاشرے میں تشدد کو ہوا دی تاہم ان کا ایکس اکاؤنٹ جیل کے اندر سے آپریٹ نہیں ہو رہا۔انہوں نے بتایا کہ یہ اکاؤنٹ جیل کے باہر ہی سے کوئی چلا رہا ہے اور جیل کے اندر نہ موبائل اور نہ ہی انٹرنیٹ جیسی سہولتیں دستیاب ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو صرف جیل رولز یا عدالتی احکامات کے مطابق فراہم کی جانے والی سہولیات ہی میسر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کا ایکس اکاؤنٹ بانی پی ٹی آئی جیل کے اندر اکاؤنٹ جیل
پڑھیں:
وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔
رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔