علاقائی امن کیلیے پاکستان اور ایران میں تعاون بہت اہم ہے،علی لاریجانی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر علی لاریجانی میں ملاقات ہوئی جس میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں مضبوط بنانے اور علاقائی و بین الاقوامی امور میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔اس موقع پر ڈاکٹر لاریجانی نے بھی تعلقات کی مزید ترقی اور دو طرفہ مفادات کے تحفظ میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ علاقائی امن کے لیے پاکستان اور ایران میں تعاون بہت اہم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور ایران
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔