اجتماعِ عام؛ ایک نئے دور کا نقطہ ٔ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر کئی دہائیوں بعد ایسا منظر دیکھنے کو ملا ہے جس نے قومی سیاست میں نئی روح پھونک دی ہے۔ جماعت ِ اسلامی کا ’’کل پاکستان اجتماعِ عام‘‘ ایک سیاسی تقریب سے کہیں بڑھ کر فکری بیداری، اخلاقی تطہیر، اجتماعی شعور اور نظریاتی وحدت کا عظیم اجتماع ثابت ہوا۔ اس اجتماع نے یہ صاف دکھا دیا کہ پاکستان کے عوام خصوصاً نوجوان اور خواتین اب محض سیاسی تماشوں، خالی نعروں اور شخصیت پرستی سے تنگ آچکے ہیں۔ قوم اب ایسے نظام کی تلاش میں ہے جو عدل، شفافیت، قیادت کی پاکیزگی اور نظریاتی استقامت پر قائم ہو۔ اس سفر کا تازہ آغاز اسی اجتماع سے ہوا ہے۔
اجتماع کے عالمی سیشن کو اس پورے پروگرام کا سب سے زیادہ تاریخی، معنویت سے بھرپور اور انقلابی حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ منفرد موقع تھا جب پاکستان کے میدان میں بیٹھے لاکھوں افراد نے نہ صرف اپنے ملک کی پکار کو بلکہ پوری امت مسلمہ کی دھڑکنوں کو ایک ہی مقام پر محسوس کیا۔ اس سیشن میں فلسطین، ترکیے، بنگلا دیش، افغانستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، سوڈان، یمن اور افریقا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے نمائندوں نے شرکت کی۔ تمام مقررین کا ایک ہی موضوع تھا: موجودہ عالمی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور ایک نیا عادلانہ عالمی نظم ابھر رہا ہے۔ یہ پیغام درحقیقت سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں، حسن البناؒ کے خوابوں اور عالمی سطح پر پھیلی ہوئی اسلامی تحریکوں کی نصف صدی کی جدوجہد کا نچوڑ تھا۔ ہر مقرر نے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کو اپنے قدروں اور اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ایک نئی عالمی برادری کی تشکیل کے لیے متحد ہونا ہوگا۔
فلسطینی نمائندوں کے جذباتی خطاب نے تمام شرکا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا: ’’غزہ کی سرزمین پر بہایا جانے والا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ اور ہم پاکستانی عوام کے ہر نعرے، ہر بینر اور ہر آنسو کو محسوس کرتے ہیں‘‘۔ یہ الفاظ نہ صرف اردو جاننے والے ہر پاکستانی کے دل کو چھو گئے بلکہ اس بات کا ثبوت تھے کہ پاکستان کا باشعور طبقہ عالمی استعماری قوتوں کے خلاف کھڑا ہے۔ اجتماع نے یہ واضح پیغام دیا کہ جماعت اسلامی عالمی سطح کی اسلامی تحریکوں کا ایک فکری مرکز بن چکی ہے اور وہ امت مسلمہ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اجتماع کے دوسرے روز منعقد ہونے والی خواتین کانفرنس نے پاکستانی سیاست کے روایتی بیانیے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ جب ملک کی آبادی کا 50 فی صد حصہ کسی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم پر منظم، باوقار، پردہ نشین مگر پراعتماد نظر آیا تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ جماعت محض مردوں کی تنظیم نہیں بلکہ خاندان کی مکمل حفاظت اور تعمیر کی تحریک ہے۔
کانفرنس میں پیش کیے گئے نکات نے خواتین کے مسائل کے حوالے سے جماعت کے واضح اور عملی ایجنڈے کو عیاں کیا۔ تعلیم کا حق: خواتین کو تعلیم دینا محض فرد کا حق نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ جماعت کا موقف ہے کہ بغیر معیاری تعلیم کے نہ تو خواتین اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکتی ہیں اور نہ ہی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔ وراثت کا مسئلہ: عورت کی وراثت پر ناجائز قبضہ محض گناہ نہیں بلکہ معاشرے کے خلاف ایک عظیم ظلم ہے۔ جماعت نے عہد کیا کہ وہ اسلامی قوانین کے مطابق خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی سطح پر کام کرے گی۔ بنیادی حقوق کا تحفظ: صحت، تحفظ، معاشی مواقع اور میراث جیسے بنیادی حقوق اسلامی نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ جماعت کا کہنا ہے کہ ان حقوق کے بغیر خواتین کی مکمل شخصیت کا ارتقاء ناممکن ہے۔ پردہ اور وقار: باپردہ مگر باوقار کردار ہی معاشرے کو صحیح سمت دے سکتا ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ پردہ خواتین کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور وقار کا ضامن ہے۔ یہ کانفرنس درحقیقت پاکستانی ریاست کو یہ یاد دہانی کروانے کا ذریعہ تھی کہ عورت محض ووٹ bank نہیں بلکہ معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔
اجتماعِ عام کی سب سے زیادہ حیران کن، متاثر کن اور امید جگانے والی تصویر پاکستانی نوجوانوں کی لاکھوں کی تعداد میں شرکت تھی۔ یہ وہ نوجوان تھے جو نہ تو کرائے پر لائے گئے تھے، نہ کسی دنیاوی لالچ کے تحت جمع ہوئے تھے، اور نہ ہی موسیقی، کھانے یا تفریح کے وعدے پر آئے تھے۔ بلکہ یہ سب کے سب صرف ایک نظریے، ایک سچائی اور ایک نئی امید کی تلاش میں اکٹھے ہوئے تھے۔ پورے پاکستان سے نوجوان قافلوں کی صورت میں اجتماع میں شریک ہوئے۔ ٹرینیں، بسیں اور دیگر گاڑیاں ان نوجوانوں سے بھری ہوئی تھیں جو اپنے علاقوں سے چل کر اس تاریخی اجتماع کا حصہ بننے آئے تھے۔ راتوں کے طویل سفر، دن کی تپتی دھوپ، موسم کی شدت، ان تمام مشکلات کے باوجود ان نوجوانوں کا عزم، نظم و ضبط اور شائستگی قابل رشک تھی۔ یہ منظر اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ پاکستان میں تبدیلی کا اصل کردار نوجوان ہیں اور وہ اب بیدار ہو چکے ہیں۔ ان نوجوانوں نے یہ واضح کر دیا کہ وہ ملک کی تبدیلی کے لیے پرعزم ہیں اور وہ اس جدوجہد میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لیے ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو بے خوف ہو، شفاف ہو، عوام کے درد کو محسوس کرتی ہو، محنتی ہو، اور سب سے بڑھ کر کردار کی پاکیزگی کی حامل ہو۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر حافظ نعیم الرحمن نے چند سال میں وہ مقام حاصل کر لیا ہے جو عام طور پر برسوں میں نصیب ہوتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، تعلیم جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے محض تقریریں ہی نہیں کیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کرپشن اور لینڈ مافیا کے خلاف ہمیشہ دوٹوک موقف اپنایا ہے۔ ان کی اس بے باکی نے عوام میں ان کے لیے ایک خاص مقام پیدا کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا نوجوانوں کے ساتھ حقیقی رابطہ ہے۔ وہ نوجوانوں کی زبان بولتے ہیں اور ان کے مسائل کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے جدید ترین ذرائع کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا ہے جس نے نوجوان نسل میں ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔ ان کا طرز زندگی شفاف اور اسلامی اقدار کا عکاس ہے۔ ان کی ذاتی زندگی ان کے دعوؤں کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ عوامی مسائل پر مسلسل جدوجہد کرتے ہیں۔ چاہے میڈیا کی توجہ حاصل ہو یا نہ ہو۔
ان تمام خصوصیات نے مل کر حافظ نعیم الرحمن کو محض جماعت اسلامی کا لیڈر نہیں بلکہ پاکستان کی واحد اْبھرتی ہوئی قومی قیادت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ جماعت اسلامی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا سفر چند سالہ لہر یا موسمی تحریک نہیں بلکہ چار نسلوں پر محیط ایک فکری سفر ہے۔ اس کی بنیاد 1941 میں سید ابوالاعلیٰ مودودی نے رکھی تھی جن کا بنیادی مقصد امت سازی، کردار سازی، تربیت اور دین کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنا تھا۔ مودودی کے بعد میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن، لیاقت بلوچ اور سراج الحق جیسی شخصیات نے جماعت کی قیادت سنبھالی۔ ان تمام قائدین نے قربانیوں اور مشکلات کے باوجود جماعت کو سنبھالا اور اسے آگے بڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی آج بھی نظریاتی استقامت کی حامل پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے۔ ہر دور میں جماعت نے اپنے بنیادی اصولوں پر سمجھوتا کیے بغیر جدوجہد جاری رکھی۔ اس نظریاتی تسلسل نے جماعت کو پاکستان کی سیاست میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحران سے گزر رہا ہے۔ دولت کا ارتکاز، کرپشن، مہنگائی، سیاسی انتشار، اداروں کی بے توقیری، معیشت کی تباہ حالی، نوجوانوں میں مایوسی اور قومی اتحاد کی شدید کمی۔ یہ سب مسائل مل کر قوم کی بقا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں جماعت اسلامی کا یہ تاریخی اجتماع درحقیقت ایک اعلان تھا: ’’ہم اس نظام کو بدلنے کے لیے تیار ہیں اور ہمارے پاس نظریہ بھی ہے، کردار بھی، قیادت بھی اور عوامی اعتماد بھی‘‘۔ جماعت نے اس اجتماع کے ذریعے عوام کو یہ باور کرایا کہ وہ نہ صرف موجودہ بحران کے حل کے لیے واضح لائحہ عمل رکھتی ہے بلکہ اسے عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اجتماعِ عام محض ایک دینی یا سیاسی اجتماع نہیں تھا؛ یہ ایک اعلان تھا کہ پاکستان میں اب نئی سیاست جنم لے رہی ہے۔ وہ سیاست جو نظریے، کردار، نظم اور عدل پر کھڑی ہے۔ یہ اجتماع اس بات کا زندہ ثبوت تھا کہ: قوم بیدار ہو چکی ہے، عوام اب خواب غفلت سے بیدار ہو چکے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ نوجوان نسل محض تماشائی نہیں رہی، وہ تبدیلی کے اصل محرک بننے کے لیے تیار ہیں۔ خواتین اب سیاسی عمل میں محض ووٹر نہیں بلکہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
عالمی سطح پر اسلامی تحریکیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو رہی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان میں حقیقی تبدیلی کی واحد امید بن کر سامنے آ رہی ہے۔ اس اجتماع نے پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ نظامِ نو کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ پاکستان بدلنے والا ہے اور اس تبدیلی کا مرکز جماعت اسلامی ہے۔ یہ اجتماع درحقیقت ایک نئے پاکستان کے خواب کی تعبیر کا پہلا قدم ثابت ہوگا۔
میر بابر مشتاق
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن کے لیے تیار ہیں جماعت اسلامی پاکستان کے کہ پاکستان نہیں بلکہ انہوں نے ہیں اور چکے ہیں کیا ہے اور وہ دیا کہ اس بات
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند