Jasarat News:
2026-06-03@03:46:43 GMT

اجتماعِ عام؛ ایک نئے دور کا نقطہ ٔ آغاز

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر کئی دہائیوں بعد ایسا منظر دیکھنے کو ملا ہے جس نے قومی سیاست میں نئی روح پھونک دی ہے۔ جماعت ِ اسلامی کا ’’کل پاکستان اجتماعِ عام‘‘ ایک سیاسی تقریب سے کہیں بڑھ کر فکری بیداری، اخلاقی تطہیر، اجتماعی شعور اور نظریاتی وحدت کا عظیم اجتماع ثابت ہوا۔ اس اجتماع نے یہ صاف دکھا دیا کہ پاکستان کے عوام خصوصاً نوجوان اور خواتین اب محض سیاسی تماشوں، خالی نعروں اور شخصیت پرستی سے تنگ آچکے ہیں۔ قوم اب ایسے نظام کی تلاش میں ہے جو عدل، شفافیت، قیادت کی پاکیزگی اور نظریاتی استقامت پر قائم ہو۔ اس سفر کا تازہ آغاز اسی اجتماع سے ہوا ہے۔

اجتماع کے عالمی سیشن کو اس پورے پروگرام کا سب سے زیادہ تاریخی، معنویت سے بھرپور اور انقلابی حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ منفرد موقع تھا جب پاکستان کے میدان میں بیٹھے لاکھوں افراد نے نہ صرف اپنے ملک کی پکار کو بلکہ پوری امت مسلمہ کی دھڑکنوں کو ایک ہی مقام پر محسوس کیا۔ اس سیشن میں فلسطین، ترکیے، بنگلا دیش، افغانستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، سوڈان، یمن اور افریقا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے نمائندوں نے شرکت کی۔ تمام مقررین کا ایک ہی موضوع تھا: موجودہ عالمی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور ایک نیا عادلانہ عالمی نظم ابھر رہا ہے۔ یہ پیغام درحقیقت سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحریروں، حسن البناؒ کے خوابوں اور عالمی سطح پر پھیلی ہوئی اسلامی تحریکوں کی نصف صدی کی جدوجہد کا نچوڑ تھا۔ ہر مقرر نے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کو اپنے قدروں اور اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے ایک نئی عالمی برادری کی تشکیل کے لیے متحد ہونا ہوگا۔

فلسطینی نمائندوں کے جذباتی خطاب نے تمام شرکا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا: ’’غزہ کی سرزمین پر بہایا جانے والا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ اور ہم پاکستانی عوام کے ہر نعرے، ہر بینر اور ہر آنسو کو محسوس کرتے ہیں‘‘۔ یہ الفاظ نہ صرف اردو جاننے والے ہر پاکستانی کے دل کو چھو گئے بلکہ اس بات کا ثبوت تھے کہ پاکستان کا باشعور طبقہ عالمی استعماری قوتوں کے خلاف کھڑا ہے۔ اجتماع نے یہ واضح پیغام دیا کہ جماعت اسلامی عالمی سطح کی اسلامی تحریکوں کا ایک فکری مرکز بن چکی ہے اور وہ امت مسلمہ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اجتماع کے دوسرے روز منعقد ہونے والی خواتین کانفرنس نے پاکستانی سیاست کے روایتی بیانیے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ جب ملک کی آبادی کا 50 فی صد حصہ کسی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم پر منظم، باوقار، پردہ نشین مگر پراعتماد نظر آیا تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ جماعت محض مردوں کی تنظیم نہیں بلکہ خاندان کی مکمل حفاظت اور تعمیر کی تحریک ہے۔

کانفرنس میں پیش کیے گئے نکات نے خواتین کے مسائل کے حوالے سے جماعت کے واضح اور عملی ایجنڈے کو عیاں کیا۔ تعلیم کا حق: خواتین کو تعلیم دینا محض فرد کا حق نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ جماعت کا موقف ہے کہ بغیر معیاری تعلیم کے نہ تو خواتین اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکتی ہیں اور نہ ہی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے۔ وراثت کا مسئلہ: عورت کی وراثت پر ناجائز قبضہ محض گناہ نہیں بلکہ معاشرے کے خلاف ایک عظیم ظلم ہے۔ جماعت نے عہد کیا کہ وہ اسلامی قوانین کے مطابق خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی سطح پر کام کرے گی۔ بنیادی حقوق کا تحفظ: صحت، تحفظ، معاشی مواقع اور میراث جیسے بنیادی حقوق اسلامی نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ جماعت کا کہنا ہے کہ ان حقوق کے بغیر خواتین کی مکمل شخصیت کا ارتقاء ناممکن ہے۔ پردہ اور وقار: باپردہ مگر باوقار کردار ہی معاشرے کو صحیح سمت دے سکتا ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ پردہ خواتین کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بلکہ ان کی حفاظت اور وقار کا ضامن ہے۔ یہ کانفرنس درحقیقت پاکستانی ریاست کو یہ یاد دہانی کروانے کا ذریعہ تھی کہ عورت محض ووٹ bank نہیں بلکہ معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔

اجتماعِ عام کی سب سے زیادہ حیران کن، متاثر کن اور امید جگانے والی تصویر پاکستانی نوجوانوں کی لاکھوں کی تعداد میں شرکت تھی۔ یہ وہ نوجوان تھے جو نہ تو کرائے پر لائے گئے تھے، نہ کسی دنیاوی لالچ کے تحت جمع ہوئے تھے، اور نہ ہی موسیقی، کھانے یا تفریح کے وعدے پر آئے تھے۔ بلکہ یہ سب کے سب صرف ایک نظریے، ایک سچائی اور ایک نئی امید کی تلاش میں اکٹھے ہوئے تھے۔ پورے پاکستان سے نوجوان قافلوں کی صورت میں اجتماع میں شریک ہوئے۔ ٹرینیں، بسیں اور دیگر گاڑیاں ان نوجوانوں سے بھری ہوئی تھیں جو اپنے علاقوں سے چل کر اس تاریخی اجتماع کا حصہ بننے آئے تھے۔ راتوں کے طویل سفر، دن کی تپتی دھوپ، موسم کی شدت، ان تمام مشکلات کے باوجود ان نوجوانوں کا عزم، نظم و ضبط اور شائستگی قابل رشک تھی۔ یہ منظر اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ پاکستان میں تبدیلی کا اصل کردار نوجوان ہیں اور وہ اب بیدار ہو چکے ہیں۔ ان نوجوانوں نے یہ واضح کر دیا کہ وہ ملک کی تبدیلی کے لیے پرعزم ہیں اور وہ اس جدوجہد میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لیے ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہوتی ہے جو بے خوف ہو، شفاف ہو، عوام کے درد کو محسوس کرتی ہو، محنتی ہو، اور سب سے بڑھ کر کردار کی پاکیزگی کی حامل ہو۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر حافظ نعیم الرحمن نے چند سال میں وہ مقام حاصل کر لیا ہے جو عام طور پر برسوں میں نصیب ہوتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ، تعلیم جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے محض تقریریں ہی نہیں کیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کرپشن اور لینڈ مافیا کے خلاف ہمیشہ دوٹوک موقف اپنایا ہے۔ ان کی اس بے باکی نے عوام میں ان کے لیے ایک خاص مقام پیدا کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا نوجوانوں کے ساتھ حقیقی رابطہ ہے۔ وہ نوجوانوں کی زبان بولتے ہیں اور ان کے مسائل کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے جدید ترین ذرائع کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا ہے جس نے نوجوان نسل میں ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔ ان کا طرز زندگی شفاف اور اسلامی اقدار کا عکاس ہے۔ ان کی ذاتی زندگی ان کے دعوؤں کی تصدیق کرتی ہے۔ وہ عوامی مسائل پر مسلسل جدوجہد کرتے ہیں۔ چاہے میڈیا کی توجہ حاصل ہو یا نہ ہو۔

ان تمام خصوصیات نے مل کر حافظ نعیم الرحمن کو محض جماعت اسلامی کا لیڈر نہیں بلکہ پاکستان کی واحد اْبھرتی ہوئی قومی قیادت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ جماعت اسلامی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا سفر چند سالہ لہر یا موسمی تحریک نہیں بلکہ چار نسلوں پر محیط ایک فکری سفر ہے۔ اس کی بنیاد 1941 میں سید ابوالاعلیٰ مودودی نے رکھی تھی جن کا بنیادی مقصد امت سازی، کردار سازی، تربیت اور دین کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنا تھا۔ مودودی کے بعد میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، سید منور حسن، لیاقت بلوچ اور سراج الحق جیسی شخصیات نے جماعت کی قیادت سنبھالی۔ ان تمام قائدین نے قربانیوں اور مشکلات کے باوجود جماعت کو سنبھالا اور اسے آگے بڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی آج بھی نظریاتی استقامت کی حامل پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے۔ ہر دور میں جماعت نے اپنے بنیادی اصولوں پر سمجھوتا کیے بغیر جدوجہد جاری رکھی۔ اس نظریاتی تسلسل نے جماعت کو پاکستان کی سیاست میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحران سے گزر رہا ہے۔ دولت کا ارتکاز، کرپشن، مہنگائی، سیاسی انتشار، اداروں کی بے توقیری، معیشت کی تباہ حالی، نوجوانوں میں مایوسی اور قومی اتحاد کی شدید کمی۔ یہ سب مسائل مل کر قوم کی بقا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں جماعت اسلامی کا یہ تاریخی اجتماع درحقیقت ایک اعلان تھا: ’’ہم اس نظام کو بدلنے کے لیے تیار ہیں اور ہمارے پاس نظریہ بھی ہے، کردار بھی، قیادت بھی اور عوامی اعتماد بھی‘‘۔ جماعت نے اس اجتماع کے ذریعے عوام کو یہ باور کرایا کہ وہ نہ صرف موجودہ بحران کے حل کے لیے واضح لائحہ عمل رکھتی ہے بلکہ اسے عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ اجتماعِ عام محض ایک دینی یا سیاسی اجتماع نہیں تھا؛ یہ ایک اعلان تھا کہ پاکستان میں اب نئی سیاست جنم لے رہی ہے۔ وہ سیاست جو نظریے، کردار، نظم اور عدل پر کھڑی ہے۔ یہ اجتماع اس بات کا زندہ ثبوت تھا کہ: قوم بیدار ہو چکی ہے، عوام اب خواب غفلت سے بیدار ہو چکے ہیں اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ نوجوان نسل محض تماشائی نہیں رہی، وہ تبدیلی کے اصل محرک بننے کے لیے تیار ہیں۔ خواتین اب سیاسی عمل میں محض ووٹر نہیں بلکہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

عالمی سطح پر اسلامی تحریکیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو رہی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان میں حقیقی تبدیلی کی واحد امید بن کر سامنے آ رہی ہے۔ اس اجتماع نے پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ نظامِ نو کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ پاکستان بدلنے والا ہے اور اس تبدیلی کا مرکز جماعت اسلامی ہے۔ یہ اجتماع درحقیقت ایک نئے پاکستان کے خواب کی تعبیر کا پہلا قدم ثابت ہوگا۔

میر بابر مشتاق سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن کے لیے تیار ہیں جماعت اسلامی پاکستان کے کہ پاکستان نہیں بلکہ انہوں نے ہیں اور چکے ہیں کیا ہے اور وہ دیا کہ اس بات

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ