کاغان میں خوفناک آتشزدگی‘ پوری بستی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-01-2
مانسہرہ(صباح نیوز)ضلع مانسہرہ کے سیاحتی مقام کاغان کے علاقہ اوچری جرید میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر لگنے والی آگ نے دس گھروں پر مشتمل بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چھ بھائیوں کے مکانات سمیت دس مکانات راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔ علی الصبح لگنے والی آگ نے پندرہ سے زائد مویشیوں کو بھی زندہ جلا دیا۔ علاقہ میں فائر بریگیڈکی رسائی ممکن نہ ہونے کے باعث مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ پر قابو پا لیا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سیاحتی مقام کاغان کے علاقہ اوچری جرید بلہ درویاںمیں نامعلوم وجوہات کی بناء پر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ علاقہ مکین سلیم کے مطابق بستی میں فضل الرحمان، مقبول الرحمان سمیت چھ بھائی اکھٹے رہائش پذیر تھے۔ جن کے مکان بھی آگ کے باعث جل کر خاکستر ہو گئے۔ گھر وں میں مقیم افراد نے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں اور آگ بجھانے کے لئے مقامی افراد کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔ جو طویل کاوشوں اور دشوار گزار علاقہ ہونے کی وجہ سے آگ پر بروقت قابو نہ پایا جا سکا اور دس گھروں پر مشتمل بستی کا آخری گھر بھی آگ کی لپیٹ میں آ کر خاکستر ہو گیا۔ بڑھتی ہوئی آگ کے باعث بستی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی جبکہ پندرہ سے زائد مویشی بھی زندہ جل گئے۔ موقع پر فائربریگیڈ کی رسائی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے آگ پر بروقت قابو نہ پایاجا سکا۔ جس وجہ سے آگ پھیلتی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔