جامشورو ،مختلف وارڈز گندگی کی ڈھیر میںتبدیل
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جامشورو(نمائندہ جسارت )جامشورو میں عوام کو سہولیات بہم پہنچانے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ مختلف وارڈز میں گندگی کے ڈھیر، گنداپانی جمع ہو نا، نکاسی آب کا سسٹم نہ ہونا، مختلف علاقوں میں پینے کے پانی کی عدَم فراہمی ٹاؤن آفس کی جانب سے سہولیات کا فقدان ہے۔ جامشورو سینڈوز روڈ اور ریلوے کراسنگ کی دوسری جانب مختلف پوش آبادیوں (وارڈز) کے عوام کو ایک طرف سے دوسری طرف آنے جانے میں سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سینڈوز کے اطراف علاقہ مکینوں کو لمس اسپتال جامشورو آنے جانے میں جبکہ وارڈ نمبر 10 سے سید آباد مدینہ نگر والوں کو سینڈوز مین روڈ پر آنے میں سخت پریشانی ہو رہی ہے، جو کہ عوام کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ جبکہ علاقہ مکینوں کی جانب سے مساجد میں آبادیوں کو ملانے والے راستے کے لیے دعا ؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ عوامی سہولیات اور بار بار ٹاؤن چیئر مین کی توجہ اِس طرف دِلانے کے باوجود ٹاؤن انتظامیہ کے سر پر جوں نہ رینگنے پر عوام سخت نالاں نظر آتے ہیں، عوام کا کہنا ہے کہ ریلوے کراسنگ کے نیچے سے آنے جانے میں ایک طرف تو جمع گندے پانی سے کپڑے خراب ہوتے ہیں، دوسری طرف موٹر سائیکلوں پر سوار سخت کیچڑ ہو نے باعث فیملی سمیت گِر کر سخت زخمی ہوجاتے ہیں۔علاقہ مکینوں نے ٹاؤن چیئر مین بلال قادر شورو اور کونسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ مکینوں کواس پریشانی سے نجات دِلائیں۔جبکہ سینڈوز روڈاوروارڈ نمبر 10 سمیت پورے جامشورو کی مرکزی سڑک ہے، جامشورو کے مرکزی تھانے سے سیکڑوں لوگ،اورگاڑیاں گزرتی ہیں۔ عوامی احتجاج یا دھرنوں کی وجہ سے انڈس ہائی وے بند ہونے کے بعد بھی کراچی، حیدرآباد، دادو سہون، میہڑ اور دیگر صوبوں کو جانے والی گاڑیاں بھی اسی راستے سے گزر کر مرکزی روڈز کو جاتی ہیں۔ شہریوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر گٹر کے پانی اور ٹوٹی ہوئی واٹر سپلائی لائن کی مرمت نہ کی گئی تو وہ ٹاؤن آفس کے سامنے احتجاج کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علاقہ مکینوں
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔