ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شامل واحد پاکستانی فلم ’گھوسٹ اسکول‘ کی دلچسپ کہانی
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے ایک پاکستانی فلم بھی منتخب ہوئی ہے جس کے چرچے زبان زد عام ہونے لگے ہیں۔
عالمی فیسٹیول میں منتخب ہونے والی واحد پاکستانی فیچر فلم ’گھوسٹ اسکول‘ کی ہدایتکارہ، مصنفہ اور پروڈیوسر سیماب گل ہیں۔
اس فلم نے عالمی سطح پر پاکستان میں بچیوں کی تعلیم اور گھوسٹ اسکولز جیسے سنگین سماجی مسئلے کو اجاگر کر کے توجہ حاصل کرلی ہے۔
’گھوسٹ اسکول‘ کی کہانی کراچی کے مضافات میں واقع ایک ماہی گیروں کی بستی کے گرد گھومتی ہے جس کا مرکزی کردار ایک کم عمر بچی رابعہ ہے۔
یہ کہانی دراصل ایک بدعنوان نظام کی علامت ہے جس کے ذریعے دیہی علاقوں میں لڑکیوں کو مختلف حیلوں بہانوں اور خوف دلا کر تعلیم سے روکا جاتا ہے۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ رابعہ کا اسکول اچانک بند کر دیا جاتا ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ اسکول میں جنّات کا بسیرا ہے۔
معصوم رابعہ اس غیر منطقی جواز کو سمجھنے سے قاصر رہتی ہے اور سوالات اٹھانے لگتی ہے یہاں تک کہ وہ خود سچ جاننے کے سفر پر نکل پڑتی ہے۔
ننھی رابعہ جیسے جیسے جنات کے بسیرے کے سچ ڈھونڈنے کے لیے آگے بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے بستی کے بااثر افراد کے مفادات اور سازش بے نقاب ہوتی جاتی ہے۔
فلم میں زیادہ تر غیر پیشہ ور اداکاروں کو شامل کیا گیا ہے جو ایرانی سینما کے اسلوب کی یاد دلاتا ہے۔
جنّات کی کہانی، فلم میں خوف پیدا کرنے کے بجائے حقیقت اور افسانے کے درمیان ایک علامتی فضا قائم کرتی ہے، جو ناظر کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
اس حوالے سے سیماب گل کا کہنا تھا کہ ’گھوسٹ اسکول‘ کو ابتدا میں ایک ڈاکومنٹری کے طور پر شروع کیا تھا مگر کہانی کی وسعت کے باعث اسے فیچر فلم کی شکل دے دی گئی۔
یاد رہے کہ فلم ’گھوسٹ اسکول‘ کا ورلڈ پریمیئر رواں برس ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ہوا تھا جبکہ پاکستان میں آئندہ موسمِ گرما میں سینما گھروں کی زینت بننے کا امکان ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل فیسٹیول میں
پڑھیں:
اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر چار تارکین وطن کے قتل کا الزام ہے جن کی لاشیں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان چار میں سے ایک پاکستانی جبکہ تین کا تعلق افغانستان سے تھا۔اطلاعات کے مطابق پولیس کو جنوبی کالابریا کے زرعی علاقے میں ایک گاؤں کے نزدیک پیٹرول پمپ سے جلی ہوئی گاڑی ملی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آتا ہے کہ دو افراد نے باہر سے وین کے دروازے بند کیے اور اندر کوئی مائع شے ڈال کر آگ لگا دی۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مقامی کھیتوں میں کام کی تقسیم اور رہائش کے حوالے سے تارکین وطن میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے تقریباً ایک بجے فائر فائٹرز کو جلتی ہوئی وین کی اطلاع ملی تھی۔آگ بجھانے کے بعد انھوں نے اندر دیکھا تو ایک خوفناک منظر تھا۔ وین میں چار جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں۔رپورٹس کے مطابق بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل شواہد کی بنیاد پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔