سڈنی کے ساحل پراندھا دھند فائرنگ میں حملہ آور کو قابو کرنے والا مسلمان نکلا
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سڈنی: آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل بونڈی میں یہودیوں کے مذہبی تہوار حنوکا کے دوران ہونے والے حملے کو جان پر کھیل کر ناکام بنانے والا ہیرو مسلمان ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق بونڈی بیچ پر یہودیوں کی تقریب کے دوران مسلح افراد داخل ہوئے اور ایک اونچے مقام پر کھڑے ہونے کے بعد اندھا دھند فائرنگ کردی۔
یہودیوں کے تہوار اور ویک اینڈ کی وجہ سے ساحل پر عوام کی بڑی تعداد جمع تھی، فائرنگ ہوتے ہی وہاں افراتفری مچی اور سب اپنی جان بچانے کیلیے بھاگتے نظر آئے۔اسی دوران ایک شخص ایسا بھی تھا جو ایک گاڑی کے پیچھے آکر چھپا اور اُس نے آگے بڑھ کر حملہ آور کو دبوچ کر قابو کیا اور بڑے نقصان سے بچا لیا۔
آسٹریلوی میڈیا رپورٹ کے مطابق جان پر کھیل مسلح شخص کو قابو کرنے والا شہری کا نام احمد ال احمد ہے جو آسٹریلیا کے شہری اور عمر 43 سال ہے۔ یہ ساحل کے قریب پھل فروخت کرنے کا کام کرتے ہیں، ان کے دو بچے ہیں۔
حملہ آور کو قابو کرنے کے دوران احمد ال احمد دو گولیاں لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق گولیاں بازو پر لگیں اور حالت خطرے سے باہر ہے۔
دنیا بھر میں 43 سالہ مسلم شہری کو ہیرو قرار دے کر اس کے اقدام کی پذیرائی کی جارہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔