سقوطِ ڈھاکا: ایک ادھورا سبق
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
’’قومیں تاریخ سے سبق سیکھیں تو مضبوط ہوتی ہیں، ورنہ تاریخ انہیں روند کر گزر جاتی ہے‘‘۔ 16 دسمبر 1971 کی تاریخ صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں، بلکہ بنگلا دیش کے لیے بھی ایک ناقابل ِ فراموش نشان ہے۔ آج، نصف صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد، بنگلا دیش کی سیاست ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ 2024 کے عوامی بغاوت کے بعد شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے سے پیدا ہونے والا سیاسی خلا، اب نئے انتخابی جھمیلوں، جماعتوں کے درمیان نئے اتحادوں اور عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی سے پر ہے۔ یہ وہی وقت ہے جب ماضی کے تجربات اور حال کے چیلنجز مل کر ایک نئی کہانی لکھ رہے ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس میں 1971 کے اسباق آج کے فیصلوں پر سایہ ڈال رہے ہیں۔
بنگلا دیش میں موجودہ سیاسی لہر کی شروعات جولائی 2024 کے طالب علموں کی عوامی تحریک سے ہوئی، جس نے 15 سالہ آمرانہ طرز حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ تحریک کی بنیادی وجہ انتخابی و دیگر اصلاحات کے مطالبے پر عوام کا احتجاج اور اس پر حکومتی ردعمل تھا۔ اس کے بعد شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور وہ بھارت میں جلاوطنی پر مجبور ہوگئیں۔ ان واقعات کے بعد، نوبل انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت تشکیل دی گئی۔ یہ عبوری حکومت ’’جولائی چارٹر‘‘ نامی ایک دستاویز پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو 2024 کی تحریک کے جذبات کے مطابق اصلاحات کا ایک خاکہ پیش کرتی ہے۔ یہ دستاویز فی الحال مسودے کی شکل میں ہے اور اس پر ابھی کئی سیاسی جماعتوں میں اختلافات موجود ہیں۔
حسینہ کے اقتدار سے باہر ہونے کے بعد سیاسی میدان میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ عوامی لیگ پر پابندی کے بعد، اب سب کی نظریں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی پر ہیں۔ بی این پی نے اپنی کئی دہائیوں پرانی اتحادی جماعت اسلامی سے راستہ الگ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے جماعت اسلامی کے مذہبی سیاسی ایجنڈے سے دوری اور ایک جدید، لبرل اور جمہوری سیاسی جماعت کے طور پر اپنا نیا تشخص متعارف کرانے کی کوشش شامل ہے۔ بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان نے 1971 کی جنگ ِ آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ’’لوگوں نے دیکھا تھا اس وقت کیا ہوا تھا‘‘، یہ ایک واضح اشارہ تھا جماعت اسلامی کے اس موقف کی طرف جو 1971 میں بنگلا دیش کی آزادی کے خلاف تھا۔ یہ تبدیلی محض انتخابی حکمت ِ عملی نہیں بلکہ ایک بنیادی نظریاتی ایڈجسٹمنٹ ہے۔ بی این پی کا خیال ہے کہ حسینہ کے بعد کے بنگلا دیش میں نوجوانوں اور شہری متوسط طبقے میں جمہوری اقدار اور اعتدال پسندی کی طلب بڑھی ہے۔
سیاسی میدان میں نئے کھلاڑی بھی ابھر رہے ہیں۔ 2024 کی طلبہ تحریک کی قیادت کرنے والے نوجوانوں نے قومی شہری پارٹی (این سی پی) تشکیل دی ہے، جو انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ بنگلا دیش میں قومی انتخابات 12 فروری 2026 کو ہونے ہیں۔ ان انتخابات کے ساتھ ساتھ اسی دن ’’جولائی چارٹر‘‘ پر ایک ریفرنڈم بھی منعقد کیا جائے گا۔ تاہم، انتخابات کی راہ میں کئی چیلنجز حائل ہیں: ۱۔ انتخابی تشدد: انتخاب کی تیاریوں کے دوران تشدد کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ ایک اہم سیاسی رہنما عثمان ہادی پر فائرنگ کا واقعہ ہوا، جسے عبوری حکومت کے سربراہ نے جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ این سی پی نے بھی اپنے کارکنوں پر حملوں اور دھمکیوں کی شکایت کی ہے۔ ۲۔ بین الاقوامی نگرانی: عالمی برادریان انتخابات کو آزاد، منصفانہ، شفاف اور سب کے لیے شامل ہونے والا بنانے پر زور دے رہی ہے۔ ۳۔ صحتیابی: بی این پی کی سابق وزیراعظم اور قائد خالدہ ضیا کی صحت انتہائی تشویشناک ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر زیر علاج ہیں۔ ان کے بیٹے اور پارٹی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان 17 سالہ جلاوطنی کے بعد 25 دسمبر کو وطن واپس آ رہے ہیں، جس سے پارٹی کے اندر نئی قیادت کے حوالے سے صورتحال واضح ہوگی۔
بنگلا دیش کو صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ کئی دیگر مسائل کا بھی سامنا ہے: بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات میں کشیدگی نے معاشی صورت حال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ بھارت نے زمینی راستے سے بنگلا دیشی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے، جس سے بنگلا دیش کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع سیاسی اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔ حسینہ کے بعد کے دور میں اقلیتوں (خاص طور پر ہندو برادری) کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ عبوری حکومت نے اسے سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے، مگر اس سے سماجی دراڑیں گہری ہونے کا خدشہ ہے۔ بنگلا دیش کی بیرونی پالیسی میں ایک واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ حسینہ کے دور میں بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، لیکن اب بنگلا دیش چین اور پاکستان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کی ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد رک گیا ہے، جس سے خطے میں چین کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہونے کے امکانات ہیں۔
1971 کی طرح آج بھی سیاسی جماعتیں آپس میں شدید اختلافات اور مخالفت کا شکار ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی repression کے خلاف عوامی غم و غصہ موجود ہے۔ خطے میں بڑی طاقتیں (بھارت، چین) اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ انتخابی اور انتظامی اداروں کی غیرجانبداری اور اہلیت پر سوالات اُٹھ رہے ہیں۔ 1971 میں مشرقی پاکستان کی علٰیحدگی کا مسئلہ تھا، جبکہ آج بنگلا دیش ایک خودمختار ملک کے طور پر اپنے سیاسی نظام میں اصلاحات کی کوشش کر رہا ہے۔ 1971 میں تبدیلی جنگ کے ذریعے آئی، جبکہ 2024 میں تبدیلی ایک عوامی، بالخصوص طلبہ کی تحریک کے نتیجے میں آئی۔ آج کی سیاسی بحث صرف قوم پرستی یا علٰحیدگی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں جمہوریت بمقابلہ آمریت، سیکولرازم بمقابلہ مذہبی سیاست اور نسلی و مذہبی اقلیتوں کے حقوق جیسے نئے عوامل شامل ہیں۔ 1971 کا بحران سرد جنگ کے تناظر میں تھا، جبکہ آج کی کشمکش میں بھارت چین مسابقت اور خلیجی ممالک کے اثر و رسوخ جیسے نئے عوامل کارفرما ہیں۔
بنگلا دیش آج ایک ایسے ہی نازک موڑ پر کھڑا ہے جیسا کبھی مشرقی پاکستان تھا۔ لیکن یہ واضح رہے کہ 1971 کی تاریخ لفظاً لفظاً دہرائی نہیں جا رہی۔ اس بار چیلنجز مختلف ہیں اور سیاسی کھلاڑی بھی نئے ہیں۔ 1971 سے سبق یہ نہیں لیا جانا چاہیے کہ تقسیم ناگزیر ہے، بلکہ یہ کہ عوامی آواز کو نظرانداز کرنا، جمہوری عمل کو مسخ کرنا اور معاشی و سماجی انصاف سے انکار کرنا کسی بھی ریاست کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ بنگلا دیش کی کہانی اب بھی لکھی جا رہی ہے۔ کیا یہ ملک اپنے ماضی کے اسباق سے سیکھ کر ایک متحد، جمہوری اور خوشحال مستقبل کی طرف بڑھے گا؟ یا پھر سیاسی ہٹ دھرمی، باہمی عدم اعتماد اور بیرونی مداخلت اسے ایک نئے بحران میں دھکیل دیں گی؟ 12 فروری 2026 کے انتخابات اور اس کے بعد کی سیاسی صورت حال ہی اس سوال کا حتمی جواب دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی بنگلا دیش کی عبوری حکومت بی این پی حسینہ کے کے خلاف کی کوشش رہے ہیں کے ساتھ کے بعد کے لیے رہی ہے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔