data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈھاکا: پاکستان کے سابق مایہ ناز فاسٹ بولر شعیب اختر نے بنگلا دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں شمولیت اختیار کرلی ہے، جہاں وہ ڈھاکا کیپیٹلز کے مینٹور کے طور پر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ شعیب اختر کی بطور مینٹور شمولیت کو لیگ اور ٹیم دونوں کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شعیب اختر نے باضابطہ طور پر ڈھاکا کیپیٹلز کو جوائن کر لیا ہے اور وہ بی پی ایل کے دوران ٹیم کے کھلاڑیوں کو فاسٹ بولنگ، فٹنس، جارحانہ حکمت عملی اور دباؤ میں پرفارم کرنے کے حوالے سے رہنمائی فراہم کریں گے۔ ان کی موجودگی سے ٹیم کے نوجوان اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ کا قیمتی تجربہ حاصل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈھاکا کیپیٹلز کی انتظامیہ نے شعیب اختر کو خاص طور پر فاسٹ بولرز کی بہتری، ٹیم کی مجموعی اسٹریٹجی اور میچ کے اہم لمحات میں فیصلہ سازی کے لیے منتخب کیا ہے۔ ٹیم منیجمنٹ کا ماننا ہے کہ شعیب اختر کی موجودگی نہ صرف کھلاڑیوں کا حوصلہ بلند کرے گی بلکہ شائقین کی دلچسپی میں بھی اضافہ کرے گی۔

خیال  رہے کہ  شعیب اختر کا شمار دنیا کے خطرناک ترین فاسٹ بولرز میں ہوتا ہے، جو اپنی تیز رفتار گیندوں اور جارحانہ انداز کے باعث عالمی کرکٹ میں منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں پاکستان کے لیے کئی یادگار فتوحات میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں اور اب کوچنگ و مینٹورنگ کے شعبے میں بھی سرگرم نظر آ رہے ہیں۔ کرکٹ حلقوں کے مطابق شعیب اختر کا تجربہ بی پی ایل جیسی مسابقتی لیگ میں کھلاڑیوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بنگلا دیش پریمیئر لیگ کا آغاز 26 دسمبر بروز جمعہ سے ہو رہا ہے۔ لیگ کے لیے مختلف ممالک کے کھلاڑی بنگلا دیش پہنچ رہے ہیں جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھی چند پاکستانی کھلاڑیوں کو بی پی ایل کھیلنے کے لیے این او سیز جاری کیے گئے ہیں۔ اس طرح بی پی ایل میں پاکستانی کرکٹ کی نمائندگی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ شعیب اختر کی بطور مینٹور شمولیت کے ذریعے بھی ہوگی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش بی پی ایل کے لیے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی