پی ٹی آئی وہ کررہی ہے جو ’را‘ تک نے کرنے کی ہمت نہیں کی، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
کراچی:وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی وہ کچھ کررہی ہے جو ’را‘ تک نے کرنے کی ہمت نہیں کی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احسن اقبال نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نااہلی نے ملک کو شدید بحرانوں سے دوچار کیا۔ تحریک انصاف کی پالیسیوں نے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا اور ملکی معیشت کو غیر مستحکم کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران احسن اقبال نے تحریک انصاف پر ملک دشمن سرگرمیوں کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعت پاکستان کی فوج کے خلاف سازشوں میں ملوث رہی اور بیرونی عناصر کے لیے ایک آلہ کار کے طور پر کام کرتی رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’اڑان پروگرام‘‘کے تحت پاکستان کی معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے اور اس سال ملکی ترسیلات زر میں30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنائے بغیر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔
وفاقی وزیر نے عمران خان پر قیمتی سرکاری تحائف کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے اور ملکی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی لگائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اپنی حکومت کے دوران 50 ارب روپے اپنے قریبی حلقوں کو منتقل کرائے اور قومی دولت کو بے دردی سے لوٹا۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ عمران خان سیاسی قیدی نہیں بلکہ ایک مجرم ہیں اور حکومت انہیں رہا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق ن لیگ نے ہمیشہ اپنے کیسز عدالتوں میں قانونی طور پر لڑے جب کہ تحریک انصاف عدالتوں کو استعمال کرتے ہوئے مظلوم بننے کی کوشش کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف احسن اقبال رہی ہے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔