عمران خان کے ساتھ عدل نہیں ہو رہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 جولائی 2025ء) ندیم افضل چن نے اعتراف کیا ہے کہ عمران خان کے ساتھ عدل نہیں ہو رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بانی تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ جیل میں ہونے والے مبینہ ابتر سلوک کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ساتھ عدل نہیں ہو رہا ہے، محرم کا مہینہ ہے، اور جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے۔
اس وقت بالکل عدل نہیں ہو رہا۔ دوسری جانب مشیر اطلاعات خیبرپختو نخواہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزاؤں سے واضح ہوتا ہے کہ جعلی حکومت عمران خان کی رہائی کی تحریک سے شدید خوفزدہ ہے، پی ٹی آئی قیادت اور کارکن جھوٹے مقدمات سے دبنے والے نہیں۔(جاری ہے)
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو سزائیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دلائی جا رہی ہیں۔
عمران خان کی رہائی کی تحریک سے عین پہلے جھوٹے مقدمات میں سزائیں دلوانا تحریک کو کمزور کرنے کی ناکام کوشش ہے، پی ٹی آئی قیادت کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دی گئی ہیں، سزائیں دلوانے سے واضح ہوتا ہے کہ جعلی حکومت عمران خان کی رہائی کی تحریک سے شدید خوفزدہ ہے۔ تحریک سے پہلے سزائیں دلوانا پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کو دبانے کی ناکام کوشش ہے،پی ٹی آئی قیادت اور کارکن جعلی حکومت کے جھوٹے مقدمات سے دبنے والے نہیں،جعلی اور سفاک حکومت نے کینسر میں مبتلا بزرگ خاتون یاسمین راشد کو بھی 10 سال قید کی سزا دلوائی، سزاؤں کے باوجود یاسمین راشد سمیت تمام رہنماؤں کا حوصلہ قابلِ دید ہے۔ عمران خان کی رہائی کی تحریک کے لیے خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، پی ٹی آئی قیادت اور کارکن عمران خان کی رہائی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، خیبر پختونخوا میں علی امین گنڈاپور کی قیادت میں تحریک کے لیے تمام تر تیاریاں جاری ہیں، پورے صوبے میں ورکرکنونشنز اور کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا جا رہا ہے، ورکر کنونشنز جلسوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ عوام اور کارکن تحریک کے لیے کس قدر پُرجوش ہیں۔ دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی نے ملک میں آئین و قانون کی بحالی،منصفانہ انتخابات اورعام آدمی کے حقوق کے تحفظ کیلئے نئی سیاسی تحریک شروع کرنے کااعلان کردیا، ہم ایک غیر جانبدار الیکشن کمیشن، آئین کی بالادستی، اور عام شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کیلئے پرعزم ہیں،اسلام آبادمیں محمود خان اچکزئی نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ یہ اتحاد کسی کھیل تماشے کیلئے نہیں بلکہ سنجیدہ قومی جدوجہد کیلئے بنایا جا رہا ہے۔ ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں ایک بڑے اتحاد کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ نہ ہم گالی دے رہے اور نہ ڈنڈا مار رہے ہیں۔ ہم آئین کی بات کر رہے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمران خان کی رہائی کی تحریک پی ٹی آئی قیادت اور کارکن عمران خان کے ساتھ عدل نہیں ہو رہا جھوٹے مقدمات تحریک سے کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔