بلوچستان میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا ہے جس نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے مگر اس کی سنگینی اور بے رحمی نے ہر حساس دل کو مضطرب کردیا ہے۔
ایک عورت جس نے اپنی پسند سے شادی کر لی، اس کو اور اس کے شوہر کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا اور یہ فیصلہ اجتماعی طور پر جرگہ میں کیا گیا اور اس سفاکانہ عمل میں پچاس لوگ ملوث تھے۔ یہ محض کوئی وقتی اشتعال کا نتیجہ نہ تھا بلکہ صدیوں پر محیط جبر، جاہلیت اور قبائلی غیرت کے نام پر قائم ایک گھناؤنے کلچر کی بھیانک تصویر ہے۔
وہ عورت جس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے شاید جینے کی خواہش کی ،کسی مرد کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ کیا ،کسی کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھایا، اُسے ایک سبق بنانے کے لیے ظلم کی اس انتہا سے گزارا گیا جو الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔
یہ واقعہ اونر کلنگ کے نام پر ہوا، ایک ایسا لفظ جو مہذب دنیا میں کبھی قابلِ فخر نہ ہو سکتا تھا، مگر یہاں اسے غیرت کی چادر میں لپیٹ کر جائز قرار دیا جاتا ہے۔ اس لفظ میں نہ عزت ہے نہ غیرت اور نہ ہی انصاف۔ یہ ایک ایسا سفاک عمل ہے جو صرف عورتوں کے لیے ہے تاکہ ان پر اختیار باقی رکھا جا سکے تاکہ وہ ہر فیصلہ کسی مرد کے حکم سے جوڑ کر دیکھیں اور اپنی مرضی کو گناہ سمجھ کر اس کا گلا گھونٹ دیں۔
وہ پچاس مرد جو اس عورت کے گرد جمع تھے، وہ افراد نہ تھے، وہ اس سماج کی نمایندگی کر رہے تھے جو عورت کو انسان نہیں سمجھتا۔ ان کی آنکھوں میں خون تھا مگر افسوس کہ کسی نے بھی یہ نہ سوچا کہ اس عورت کا خون بھی سرخ ہے، اس کی چیخیں بھی انسان کی چیخیں ہیں اور اس کے وجود کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا ان کے وجود کا۔
اس واقعہ کی سب سے بھیانک بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک فرد کی ہلاکت نہیں بلکہ ایک پوری سوچ ،ایک پوری نسل کے گلے میں خوف کا طوق ڈالنے کی کوشش ہے۔ یہ اعلان ہے کہ عورت اگر زبان کھولے گی تو اسے دفن کر دیا جائے گا۔ وہ زبان جو زندگی سے محبت کرے، جس میں سوال پیدا ہوں، جس میں آزادی کا خواب جنم لے، اسے نوچ کر باہر نکال دیا جائے گا اور یہ سب کچھ اس سماج کی خاموشی کی چھاؤں میں ہوتا ہے جہاں لوگ حقیقت دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ سچ سن کر کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے ظالم کی طاقت سے مرعوب ہو جاتے ہیں۔
یہ معاملہ قانون سے کہیں زیادہ اخلاق کا ہے، یہ جنگ عدالتی نظام سے پہلے ضمیر کی ہے، اگر ایک سماج میں پچاس مرد مل کر ایک عورت کو مار سکتے ہیں اور کوئی شخص آواز نہیں اٹھاتا تو یہ صرف قاتلوں کی سزا کا سوال نہیں بلکہ پورے سماج کے ضمیرکی موت ہے۔ اس عورت کا جسم جس پر ظلم ہوا اب تو مٹی تلے ہے، مگر سوال زندہ ہے۔ کیا عورت مرد کی ذاتی ملکیت ہے؟ کیا اس کی زندگی کا فیصلہ صرف وہی کرسکتے ہیں جن کے ہاتھ میں طاقت ہے؟ کیا اس کے خواب، اس کی خواہشیں، اس کی شناخت بے معنی ہے؟ ہم کب تک ان سوالوں سے منہ موڑتے رہیں گے؟
یہ واقعہ بلوچستان کا ہے مگر اس کی گونج پورے ملک میں سنی جانی چاہیے۔ یہ ایک علاقائی مسئلہ نہیں، یہ ایک قومی المیہ ہے۔ اگر ہم اسے صرف ایک قبائلی رسم کے طور پر دیکھ کر نظر انداز کریں گے تو ہم ظلم کے شریک ہوں گے۔ جب بھی کسی عورت پر ظلم ہوتا ہے پوری انسانیت زخمی ہوتی ہے اور جب انسانیت کو چپ کرا دیا جائے تو صرف قبریں آباد ہوتی ہیں، زندگی نہیں۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ ہم نے تعلیم کو ترقی کا زینہ تو بنایا مگر وہ تعلیم کہاں ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے؟ وہ شعور کہاں ہے جو ظلم کو ظلم کہنے کی جرات دیتا ہے؟ ہمارے اسکول، کالج، یونیورسٹیاں کس لیے ہیں، اگر وہاں سے ایسے لوگ نکلتے ہیں جو غیرت کے نام پر قتل کو جائز سمجھتے ہیں؟ ہمیں اپنے بچوں کو صرف مضامین نہیں پڑھانے بلکہ انصاف، برابری اور احترامِ انسانیت کا شعور بھی دینا ہوگا۔ جب تک ہم ان بنیادوں کو نہیں چھیڑتے تب تک صرف قانون بنانے یا مذمت کرنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔
ہمیں اس عورت کے لیے آواز بلند کرنی ہوگی، کیونکہ اگر ہم آج نہ بولے تو کل یہ خاموشی ہمارے گھروں تک پہنچے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت کا وقار اس کی آزادی، اس کی حفاظت صرف عورتوں کا مسئلہ نہیں، یہ پوری انسانیت کا معاملہ ہے۔ اگر ایک عورت کی عزت محفوظ نہیں تو کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ اگر ایک عورت کی آزادی پامال ہوتی ہے تو پورا سماج قید ہے۔ ہمیں عدالتوں میں صرف انصاف نہیں سماج میں تبدیلی بھی لانی ہے۔
ہمیں اس سوچ کو دفن کرنا ہوگا، جو غیرت کو قتل سے جوڑتی ہے جو مردانگی کو جبر سمجھتی ہے، جو عورت کو جسم، عزت یا صرف خاندان کی ناموس مانتی ہے۔ عورت انسان ہے، مکمل انسان اور اس کی زندگی، اس کے فیصلے، اس کے خواب، اسی قدر اہم ہیں جتنے کسی مرد کے۔ جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے تب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے اور ہم صرف تحریریں لکھتے رہیں گے، بینرز اٹھاتے رہیں گے مگر کچھ بدلے گا نہیں۔
آخر میں صرف ایک سوال رہ جاتا ہے وہ پچاس مرد اب کہاں ہیں؟ کیا وہ اب بھی آزاد ہیں؟ کیا وہ فخر سے اپنی جیت کا جشن منا رہے ہیں؟ اور ہم کہاں ہیں؟ کیا ہم اب بھی اپنی مصروف زندگیوں میں گم ہیں یا اس عورت کی تکلیف کو اپنا دکھ سمجھنے کے لیے تیار ہیں؟ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی موت نہیں، ایک سماج کی روح پر لگنے والا زخم ہے، اگر ہم نے اس زخم پر مرہم نہ رکھا تو کل یہ زخم ناسور بن جائے گا جو ہمارے پورے سماج کو چاٹ جائے گا۔
ایک طرف ہم اس جوڑے اور اپنے سماج کی جہالت کو رو رہے ہیں اور دوسری طرف امریکا کی ریاست لوزیانا کی الیسہ کارسن ہے جس کا نام نہ صرف سائنسی دنیا میں ابھر کر سامنے آیا ہے بلکہ وہ لاکھوں نوجوانوں خصوصاً لڑکیوں کے لیے ایک امید، ایک خواب اور ایک مثال بن چکی ہے، اس کی عمر ابھی بیس کے پیٹے میں ہے مگر وہ دنیا کے ان چند لوگوں میں شامل ہے جو ناسا کی مستقبل کی خلائی مہمات کے لیے خصوصی تربیت حاصل کر رہی ہے اور یہ امکان ظاہرکیا جا رہا ہے کہ وہ مریخ پر قدم رکھنے والی پہلی انسان بنے گی۔
الیسہ کی کہانی صرف خلا میں جانے کی خواہش سے شروع نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ایسے بچپن سے شروع ہوتی ہے جہاں اس نے محض تین سال کی عمر میں خلا نورد بنے کا خواب دیکھنا شروع کردیا تھا۔ وہ لمحہ اس کی زندگی کا رخ متعین کرنے والا بن گیا۔ اُس نے کم عمری سے ہی فلکیات، فزکس اور خلا سے متعلق علوم میں دلچسپی لینا شروع کردی اور سات سال کی عمر میں ناسا کے اسپیس کیمپ میں شرکت کی۔ بعد ازاں وہ واحد انسان بنی جس نے دنیا کے تمام بڑے اسپیس کیمپس میں شرکت کی ہے۔
الیسہ نے اپنی تعلیم کا رخ بھی انھی خوابوں کے مطابق رکھا۔ اس نے فلکیات، بیالوجی، فزکس اور دیگر سائنسی مضامین میں مہارت حاصل کی اور مختلف زبانیں سیکھیں تاکہ کسی بھی بین الاقوامی مشن میں آسانی سے شامل ہو سکے۔ الیسہ ناسا کی جانب سے مریخ پر بھیجے جانے والے مشن کا حصہ ہونا چاہتی ہے۔
یہ حقیقت قابل غور ہے کہ مریخ پر جانے کا مشن کوئی سیر و تفریح کا سفر نہیں ہوگا۔ یہ ایک نہایت کٹھن، خطرناک اور غیر یقینی سفر ہوگا جس میں واپسی کا کوئی وعدہ نہیں۔ یہ مشن کئی مہینوں پر محیط ہوگا جس میں انسان کو ایک ایسی دنیا میں جانا ہوگا جہاں سختیاں ہوں گی اور زمین سے مختلف ماحول ہوگا۔ وہاں جانے کے لیے جسمانی طاقت سے بڑھ کر ذہنی طاقت درکار ہوگی اور الیسہ ان تمام چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
الیسہ نہ صرف سائنسی میدان میں خود کو منوا رہی ہے بلکہ وہ نوجوان نسل خاص طور پر لڑکیوں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ خواب بڑے دیکھو اور ان کے پیچھے لگے رہو۔ وہ اکثر تعلیمی اداروں سیمینارز اور کانفرنسز میں شرکت کرتی ہے جہاں وہ اپنی کہانی سنا کر دوسروں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک خاص کشش ہے جو نوجوانوں کو حوصلہ دیتی ہے کہ کچھ بھی ممکن ہے بشرطیکہ ارادہ پختہ ہو اور محنت مسلسل ہو۔
الیسہ کی زندگی کا ہر لمحہ اس مقصد کے گرد گھومتا ہے کہ وہ انسانیت کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کرے۔ مریخ پر قدم صرف ایک ذاتی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ یہ پوری انسانیت کی فتح ہوگی۔ اگر وہ اس سفر میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ نہ صرف سائنس میں ایک نیا سنگِ میل عبور کرے گی بلکہ زمین سے باہر زندگی کی تلاش میں بھی ایک نئی راہ کھولے گی۔الیسہ کارسن کا سفر اس بات کی علامت ہے کہ اگر خواب سچے ہوں اور ارادے مضبوط تو آسمان بھی چھوٹا پڑ سکتا ہے۔ اس کی کہانی اس دنیا کے ہر اس بچے لڑکی یا نوجوان کے لیے مشعل راہ ہے جو کسی بڑی منزل کی خواہش رکھتے ہیں۔ مریخ پر انسان کے قدم رکھنے سے پہلے ہی الیسہ نے ہمارے دلوں پر اپنی سوچ عزم اور جدوجہد سے جگہ بنا لی ہے۔ یہ صرف ایک آغاز ہے اور دنیا اس کی کامیابی کا شدت سے انتظار کر رہی ہے۔
کیسا تضاد ہے ہم اپنی بیٹیوں کو اپنی مرضی سے زندگی کا ساتھی نہیں چنے دیتے اور ایسا کرنے پر جان سے مار دیتے ہیں اور مہذب معاشرے اپنی بیٹیوں کو خلا میں بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں اور اس پر فخر کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایک عورت زندگی کا کی زندگی رہیں گے میں ایک جائے گا ہوتی ہے رہے ہیں صرف ایک ہیں اور سماج کی رہی ہے اور اس یہ ایک کے لیے
پڑھیں:
خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔