سرگودھا:  انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے 6 مقدمات میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب و دیگر کی بریت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

زرائع کے مطابق سرگودھا کی انسداد دہشتگردی عدالت میں اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر، عالیہ حمزہ اور صنم جاوید سمیت دیگر کیخلاف میانوالی میں درج 6 مقدمات کی سماعت ہوئی، مختلف علاقوں سے آئے 150 سے زائد ملزمان عدالت پیش ہوئے۔

مقدمات میں نامزد ملزمان عمر ایوب، ملک احمد خان بھچر، عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور بلال اعجاز چٹھہ کی جانب سے ان کے وکلاء نے حاضری معافی کی درخواست دی، وکلاء صفائی نے ملزمان کی بریت کی درخواست پر بحث مکمل کرلی۔

بعدازاں عدالت نے ملزمان کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی ، عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کی حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 17 جنوری تک ملتوی کردی۔

ن بھچر، عالیہ حمزہ اور صنم جاوید سمیت دیگر کیخلاف میانوالی میں درج 6 مقدمات کی سماعت ہوئی، مختلف علاقوں سے آئے 150 سے زائد ملزمان عدالت پیش ہوئے۔

مقدمات میں نامزد ملزمان عمر ایوب، ملک احمد خان بھچر، عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور بلال اعجاز چٹھہ کی جانب سے ان کے وکلاء نے حاضری معافی کی درخواست دی، وکلاء صفائی نے ملزمان کی بریت کی درخواست پر بحث مکمل کرلی۔

عدالت نے ملزمان کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی ، عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کی حاضری یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 17 جنوری تک ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: حاضری معافی کی درخواست کی بریت کی درخواست ملزمان کی حاضری نے ملزمان کی مقدمات میں صنم جاوید عمر ایوب عدالت نے دیگر کی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل