سکھر (نمائندہ جسارت) سکھر سول اسپتال اور ریجن کے دیگر سرکاری اسپتالوں میں آپریشن کے دوران استعمال ہونے والے سرجیکل سامان کے غیر معیاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ سرجیکل سامان جو روڈ حادثوں،مختلف حادثات میں زخمی ہونے والے مریضوں، پتے کے آپریشن، گردے، اور گائنی کے مریضوں کے آپریشنز کے لیے آپریشن تھیٹر میں استعمال کیا جا رہا ہے، ناقص معیار کی وجہ سے مریضوں کے زخم خراب ہونے کا سبب بن رہا ہے، جس کے باعث مریض شدید اذیت کا شکار ہو رہے ہیں۔مریضوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ آپریشن کے بعد زخموں میں پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں اور انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ناقص سرجیکل آلات زخموں کو خراب کر دیتے ہیں، جس سے نہ صرف مریض کی صحت کو مزید خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ علاج کا دورانیہ بھی طویل ہو جاتا ہے۔مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت اس سنگین مسئلے پر خاموش ہے اور تاحال کسی قسم کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کو کئی بار شکایات موصول ہو چکی ہیں، لیکن غیر معیاری سامان فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ریجن کے دیگر اسپتالوں میں بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، جن میں لاڑکانہ، شکارپور، گھوٹکی، خیرپور، اور کشمور کے سرکاری اسپتال شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق