اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہائی کے لیے کوئی دباؤ نہیں، پی ٹی آئی کا ملک کو نقصان پہنچانے کا ہر حربہ ناکام ہوا، معاشی اشاریے آج بہتر ہوتے جا رہے ہیں۔ڈان نیوز کے مطابق سیالکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے عمران خان کو جیل سے بنی گالہ یا کہیں اور منتقل کرنے کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی، اس حوالے سے پی ٹی آئی کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائی عدالتوں کے فیصلوں پر منحصر ہے، میں عدلیہ سے تعلق رکھتا ہوں نہ جوتشی ہوں کہ کوئی پیشگوئی کر سکوں، حکومت کی کوشش ہے کسی طرح سیاسی استحکام لایا جائے۔خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کو ہاؤس اریسٹ کرنے یا کہیں اور منتقل کرنے کے حوالے سے دعوے پی ٹی آئی والے خود ہی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک موجود پاکستانیوں کی دعائیں رنگ لے آئیں اور یورپ کے لیے پروازیں بحال ہوئی ہیں، فلائٹس کی تعداد بتدریج بڑھائی جائے گی، برطانیہ کے لیے بھی جلد پروازیں چلائی جائیں گی، نارتھ امریکا تک یہ سلسلہ شروع کریں گے، 19 یورپی شہروں تک فلائٹس آپریٹ کی جائیں گی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ سیالکوٹ میں جو پیداوار ہوتی ہے، ایکسپورٹ کی جاتی ہے، اس شہر کو ’بانڈڈ سٹی‘ قرار دیا جانا چاہیے، یہاں بزنس کمیونٹی نے ایئرپورٹ بنایا، شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ اور نواز شریف نے بطور وزیراعظم سیالکوٹ کے لیے قابل فخر کردار ادا کیا۔

لاس اینجلس میں بھڑکنے والی آگ مزید آگے بڑھنے لگی، 10 ہزار عمارتیں ختم، اموات بڑھ گئیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف