رحیم یار خان کے تھانہ ظاہر پیر کے علاقے بستی لاشاری میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے 4 نہتے اور معصوم شہری جاں بحق ہوگئے۔ واقعے پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے سخت نوٹس لیتے ہوئے آر پی او بہاولپور سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

آئی جی پنجاب نے ڈی پی او رحیم یار خان کو قتل میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا۔ پولیس کے سینئر افسران، کرائم سین یونٹ اور فرانزک ٹیموں کے ہمراہ موقع پر پہنچ چکے ہیں تاکہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔

پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق، اندھڑ، شر، اور کوش گینگ کے ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاعات پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کا تعاقب کیا۔ دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

ڈی ایس پی خانپور اظہر اقبال اور ڈی ایس پی صدر سرکل خالد محمود کی قیادت میں پولیس ٹیمیں ملزمان کو گھیرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ پولیس کو حملہ آور ڈاکوؤں کے خلاف کامیابی کی قوی امید ہے۔

ڈی پی او رحیم یار خان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی جانیں ضائع ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مجرموں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور انصاف فراہم کیا جائے گا۔

یہ واقعہ علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اور عوام امید رکھتے ہیں کہ پولیس مجرموں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رحیم یار خان

پڑھیں:

اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست

اغوا برائے تاوان کیس میں پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے اور ان کے وکیل نے عدالت سے ضمانت واپس لینے کی درخواست کی ہے۔

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی کی منتظم عدالت میں اداکار منیب بٹ کے خلاف اغوا برائے تاوان کے مقدمے کی سماعت ہوئی، جہاں ان کے وکیل نے ضمانت واپس لینے کی درخواست دائر کر دی۔

سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے اپنے چالان میں منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا ہے، لہٰذا ضمانت کی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے مدعی محمد متعال کو اغوا کر کے 24 لاکھ 94 ہزار روپے مالیت کی کرپٹو کرنسی اور دیگر سامان لوٹ لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ منیب بٹ پر ملزمان کو مری میں رہائش دلوانے کا الزام تھا، تاہم تفتیش مکمل ہونے کے بعد انہیں چالان میں بے گناہ قرار دیا گیا۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ایک پولیس اہلکار غالب تاحال مفرور ہے، جبکہ دیگر ملزمان میں شاہد ستار، محمد سلیم، علیم اور وزیر محمد شامل ہیں۔

تحقیقات کے مطابق ملزمان نے 23 اپریل کو شاہراہِ فیصل سے محمد متعال کو اغوا کیا اور کرپٹو کرنسی سمیت دیگر قیمتی سامان چھیننے کے بعد انہیں کورنگی انڈسٹریل ایریا میں چھوڑ دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • کراچی کے 2 اسٹریٹ کرمنلز مردان میں پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک