واٹس ایپ صارفین اپنی مرضی کے اے آئی کریکٹر تخلیق کرسکیں گے
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
اینڈرائیڈ صارفین کے لیے جلد ہی واٹس ایپ ایک نئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) خصوصیت متعارف کروا رہاے، جس سے صارفین ایپ کے اندر ذاتی اے آئی کریکٹرز تخلیق کرسکیں گے۔
ویب بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ اینڈرائیڈ کے لیے بیٹا ورژن 2.25.1.26 میں نئے فیچر لانے کی تیاری کررہا ہے جس کے تحت صارفین اپنی مرضی کی اے آئی کریکٹر تخلیق کرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:یکم جنوری 2025 سے کون سے موبائل فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا؟
یہ فیچر صارفین سے چیٹ بوٹ بنانے کا مقصد بیان کرنے اور اس کے بنیادی کاموں کی وضاحت کرنے کو کہے گا، صارفین کے لیے چیٹ بوٹ بنانے کے عمل کو سادہ رکھا گیا ہے، یہاں تک کہ تکنیکی پس منظر نہ رکھنے والے صارفین بھی اپنی مرضی کی چیٹ بوٹ بناسکیں گے۔
واٹس ایپ کا یہ فیچر اس وقت صرف بیٹا ورژن میں ہی دستیاب ہے اور عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہے، یہاں تک کہ بیٹا ٹیسٹرز کو بھی ابھی تک اس ٹول تک مکمل رسائی حاصل نہیں ہے، تاہم توقع ہے کہ یہ جلد عام صارفین کو دستیاب ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ’اب بدلیں رنگ اپنی مرضی کے‘، واٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کرا دیا
یاد رہے کہ واٹس ایپ کی پیرنٹ کمپنی میٹا کے پاس اپنا اوپن سورس لارج لینگویج ماڈل (LLM) Llama 3 ہے، جن میں سب سے نمایاں میٹا اے آئی شامل ہے جو واٹس ایپ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اے آئی بیٹا انفو چیٹ بوٹ واٹس ایپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی بیٹا انفو واٹس ایپ اپنی مرضی اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔