WE News:
2026-07-24@04:17:53 GMT

واٹس ایپ صارفین اپنی مرضی کے اے آئی کریکٹر تخلیق کرسکیں گے

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT

واٹس ایپ صارفین اپنی مرضی کے اے آئی کریکٹر تخلیق کرسکیں گے

اینڈرائیڈ صارفین کے لیے جلد ہی واٹس ایپ  ایک نئی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) خصوصیت متعارف کروا رہاے، جس سے صارفین ایپ کے اندر ذاتی اے آئی  کریکٹرز تخلیق کرسکیں گے۔

ویب بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ اینڈرائیڈ کے لیے بیٹا ورژن 2.25.1.26 میں نئے فیچر لانے کی تیاری کررہا ہے جس کے تحت صارفین اپنی مرضی کی اے آئی کریکٹر تخلیق کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:یکم جنوری 2025 سے کون سے موبائل فونز پر واٹس ایپ نہیں چلے گا؟

یہ فیچر صارفین سے چیٹ بوٹ بنانے کا مقصد بیان کرنے اور اس کے بنیادی کاموں کی وضاحت کرنے کو کہے گا، صارفین کے لیے چیٹ بوٹ بنانے کے عمل کو سادہ رکھا گیا ہے، یہاں تک کہ تکنیکی پس منظر نہ رکھنے والے صارفین بھی اپنی مرضی کی چیٹ بوٹ بناسکیں گے۔

واٹس ایپ کا یہ فیچر اس وقت صرف بیٹا ورژن میں ہی دستیاب ہے اور عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہے، یہاں تک کہ بیٹا ٹیسٹرز کو بھی ابھی تک اس ٹول تک مکمل رسائی حاصل نہیں ہے، تاہم توقع ہے کہ یہ جلد عام صارفین کو دستیاب ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ’اب بدلیں رنگ اپنی مرضی کے‘، واٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کرا دیا

یاد رہے کہ واٹس ایپ کی پیرنٹ کمپنی میٹا کے پاس اپنا اوپن سورس لارج لینگویج ماڈل (LLM) Llama 3 ہے، جن میں سب سے نمایاں  میٹا اے آئی شامل ہے جو واٹس ایپ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اے آئی بیٹا انفو چیٹ بوٹ واٹس ایپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی بیٹا انفو واٹس ایپ اپنی مرضی اے ا ئی کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ