ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز اینڈ ایجوکیشن کے تحت ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے ممبران کیلئے تربیتی سیشن کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 14th, January 2025 GMT
ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز اینڈ ایجوکیشن کے تحت ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے ممبران کیلئے تربیتی سیشن کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 14 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس ) ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز اینڈ ایجوکیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے اراکین کے لیے کمیونیکشن سکلز کے عنوان سے تربیتی سیشن کا انعقاد کیا۔ ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز اینڈ ایجوکیشن کے ڈائریکٹر جنرل محمد اکبر رائے اور ڈپٹی ڈائریکٹر محمد بشیر کی سربراہی میں ہونے والی تربیتی ورکشاپ میں ایسوسی ایشن کے اراکین کی کمیونیکشن سکلز میں بہتری لانے کے لئے خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔
سابق ڈائریکٹر ایس آئی ٹی اسلام آباد عنایت شاہ نے کمیونیکشن سکلز پر لیکچر دیا اور شرکا کی کمیونیکشن سکلز میں بہتری کے لیے تجاویز دیں ۔ سیشن کے اختتام پر شرکا میں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے ۔ صدر اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی فیاض محمود نے ڈائریکٹوریٹ آف ورکرز اینڈ ایجوکیشن کو تربیتی سیشن کے انعقاد پر سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے اراکین کی کمیونیکشن سکلز بہتر بنانے میں مدد ملے گی .
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایسوسی ایشن کے تربیتی سیشن اسلام آباد کا انعقاد
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔