سنجیدگی، نیک نیتی کے ساتھ بیٹھیں گے تو تمام مسائل کا حل نکل آئے گا، بیرسٹرگوہر
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔15 جنوری 2025)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سنجیدگی، کھلے دل ،نیک نیتی کے ساتھ بیٹھیں گے تو تمام مسائل کا حل نکل آئے گا، انشاءاللہ کل مذاکرات کا تیسرا سیشن ہو رہا ہے، ہم اپنے مطالبات لکھ کر سامنے رکھیں گے،اسلا م آباد میں عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماء پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے 12 شہدا اور 49 زخمیوں کا ذکر کیا تھا۔
زخمیوں میں سے مزید دو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان کا ڈیٹا بھی عدالت میں جمع کرانا ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان سیاسی قیدی ہیں انہیں رہائی ملنی چاہیے۔حکومت اگر نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ بیٹھے تو مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ توقع کرتے ہیں حکومت ہمارے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف جتنے کیسز بنا سکتے تھے وہ بنوائے گئے۔
عمران خان نے کوئی جرم نہیں کیا۔ بانی پی ٹی آئی سیاسی قیدی ہیں، سیاسی قیدی کی اب رہائی ہونی چاہیے۔سیاسی قیدیوں کی رہائی جمہوریت کیلئے بھی ضروری ہے۔ امید ہے یہ پراسیس جلد مکمل ہوگا۔ خوشی کی خبر آئے گی۔گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے سیاسی قیدی ڈیڑھ دو سال سے تکلیف میں مبتلا ہیں۔لوگ جیلوں میں بند ہیں، ضمانتیں نہیں مل رہیں ہیں۔ ہمارے سیاسی قیدیوں کی رہائی ہر صورت ضروری ہے۔ آج کی کمپلینٹ ایک پرائیویٹ کمپلینٹ ہے۔ اس کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کمپلینٹ پر مزید کارروائی ہوگی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا تھاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان آگ لگانے نہیں بلکہ عوام کو حقوق دینے اور عدلیہ کو آزاد کرانے باہر آئیں گے۔بانی پی ٹی آئی نے کہاتھا کہ ڈیل نہیں صرف 2نکات پر مذاکرات ہونگے۔جوڈیشل کمپلیکس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنماءپی ٹی آئی کاکہنا تھا کہ سیاسی مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ٹیبل پرمذاکرات ہونے چاہئیں۔ ہم پرامید ہیں اختلافات کو جلد ختم ہونا چاہیے۔ مذاکرات کامیاب ہونے چاہیں یہ ملک کیلئے بہتر ہوگا۔190ملین پاﺅنڈ کیس فیصلے کا تعلق مذاکرات کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا تھاکوئی ڈیل نہیں ہوگی۔ دو نکات پر مذاکرات ہوں گے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کسی قسم کی ڈیل پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ صرف اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں مذاکرات ملک میں سیاسی نظام کرنے کیلئے بہتر تھا۔16 جنوری کومذاکرات کے حوالے سے اگلی نشست ہوگی۔ان مذاکرات کیلئے کارکنان کی رہائی اور کمیشن کا قیام ہمارے دو نکات تھے۔اب ہرگز بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گے ہم چاہتے تھے بانی پی ٹی آئی کیخلاف جو بے بنیاد من گھڑت مقدمات بنائے گئے ہیں ان میں اب انہیں زیادہ دیل جیل میں نہیں رکھا جا سکتا اس لئے ان کی رہائی فوری ممکن بنائی جائے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بانی پی ٹی آئی عمران خان سیاسی قیدی کی رہائی کے ساتھ تھا کہ نے کہا
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔