Jasarat News:
2026-06-03@05:46:30 GMT

اسٹاک مارکیٹ کاروباری اتار چڑھاو کے بعد مندی کے باد ل

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT

اسٹاک مارکیٹ کاروباری اتار چڑھاو کے بعد مندی کے باد ل

کراچی(کامرس رپورٹر)کاروباری ہفتے کے تیسرے روز پاکستان اسٹاک ایکس چینج کاروباری اتار چڑھاو کے بعد مندی کے باد ل چھا گئے ،ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس 959پوائنٹس کے اضافے سے 1لاکھ15ہزار773پوائنٹس کی بلند سطح سطح پر پہنچ گیا تھا بعد ازاں منافع کی خاطر مقامی انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے فروخت کے دباو سے مارکیٹ تنزلی کا شکار ہو گئی اور انڈیکس 300سے زاید پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس 114,804پوائنٹس سے کم ہو کر 114,495 پوائنٹس کی پست سطح پربند ہوا۔مارکیٹ کے سرمائے میں سرمایہ کاروں کو 25ارب روپے سے زاید کاخسارہ برداشت کرنا پڑا جبکہ 49.

45فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں۔ بروکریج ہاؤسزکے مطابق آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں 100بیسس پوائنٹس کی کمی ے امکانات اور کم قیمت حصص کی خریداری پر تیزی رونما ہوئی مگر کاروباری کے اختتام سے قبل تیزی مندی میں تبدیل ہو گئی۔کاروبار کے اختتام پر انڈیکس میں 308پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی جس سے انڈیکس 1لاکھ14ہزار495پوائنٹس پر بند ہوا اسی طرح 99پوائنٹس کی کمی سے 30انڈیکس 36ہزار 3پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 71 ہزار438پوائنٹس سے کم ہو کر 71ہزار 318 پوائنٹس پر آگیا۔کاروباری مندی سے مارکیٹ کے سرمائے میں 25ارب 10کروڑ76لاکھ 49ہزار 65روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم14222ا رب66کروڑ 75لاکھ 65 ہزار930روپے سے کم ہو کر 14197ارب55 کروڑ99لاکھ16ہزار865روپے رہ گیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پوائنٹس کی کی کمی

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا