Jasarat News:
2026-06-02@23:19:28 GMT

سندھ کی کسان عورت اسل ورکنگ وومن ہے،شاہینہ شیر علی

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT

ٹنڈو جام (نمائندہ جسارت) صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے کہا ہے کہ سندھ کی کسان عورت اصل ورکنگ وومن ہے، اسے دیگر اداروں میں کام کرنے والی ورکنگ وومن جیسی اہمیت ملنی چاہیے، بچے گود میں لے کر کھیت میں کام کرنے والی مزدور خواتین کے بچوں کے لیے سندھ میں 115 ڈے کیئر سینٹر قائم کر رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کی میزبانی میں ’’زرعی ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانا‘‘ چیلنجز اور آگے بڑھنے کے طریقے کے موضوع پر پہلی 2 روزہ عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو اسکول بھیجنے اور بعد میں کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین مردوں کے بہتر مستقبل کے لیے محنت کرتی ہیں، اب ان کی بہتری کے لیے بھی سوچنا ضروری ہے، اس بچے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے جو اسٹیج پر آکر فخر سے کہے کہ وہ ایک ہاری کا بیٹا ہے۔ سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ صنفی برابری کے ذریعے ملک ترقی کر سکتا ہے، 67 فیصد خواتین زراعت میں عملی کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے لیے کوئی مناسب اُجرت نہیں ہے۔ زیادہ تر زمینوں کی ملکیت کا حق مردوں کے پاس ہے، خواتین کو زمین کی ملکیت کے حقوق ملنے چاہییں کیونکہ کاشت سے لے کر کٹائی تک خواتین مردوں کے برابر کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو تدریس، تحقیق اور ترقی میں فیصلے کرنے کے حق میں رُکاوٹوں کا سامنا ہے۔ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے کہا کہ زرعی شعبے میں خواتین کا کردار اہم ہے لیکن یہ تشویش کی بات ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں 10 فیصد خوش نصیب بچوں میں لڑکیوں کا تناسب صرف 2 فیصد ہے، مارکیٹ میں خرید و فروخت کرنے والی خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے مارکیٹنگ کے شعبے میں خواتین کو متحرک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمیا، ایوان، سیاسی قیادت اور میڈیا سماج خواتین کو عملی میدان میں لانے میں حوصلہ افزائی اور رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ خواتین کی عملی شمولیت اور زراعت کو فروغ دے کر معیشت اور جی ڈی پی کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ ایف اے او کی مس این کلر یوی میری چیریسی نے کہا کہ سندھ کی خواتین کھیتوں میں 12 سے 14 گھنٹے کام کرتی ہیں، جنہیں صحت کے مسائل کا سامنا ہے، کھیتوں میں پیداواری عمل میں شامل خواتین بھی موسمی تبدیلیوں، غذائی تحفظ، غذائی کمی، کم اُجرت اور صنفی ناانصافیوں کا شکار ہیں۔ سماجی رہنما زاہدہ ڈیتھو نے کہا کہ خواتین کو مارکیٹنگ کی طرف لانا ہو گا، محنت خواتین کرتی ہیں اور زرعی مصنوعات کو مارکیٹ تک مرد لے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے دارالامان پروٹیکشن سیل اور شکایتی مراکز ناکافی ہیں، خواتین کو قانونی اور انصاف کی سہولیات دستیاب نہیں، خواتین کو لیبر فورس کے طور پر قبول کر کے تمام مراعات دی جانی چاہییں۔ پاکستان سوسائٹی آف ایگریکلچر انجینئرنگ کے مرکزی رہنما انجینئر منصور رضوی نے کہا کہ عالمی ترقی میں خواتین برابر کی شریک ہیں، ہم نے اپنی آدھی آبادی کو ترقی سے دور رکھا ہوا ہے، ایسی کانفرنسوں کو دیگر یونیورسٹیوں تک لے جانا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کرنے والی خواتین کو کرتی ہیں کے لیے

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ