حکومتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی—فائل فوٹو

حکومتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے غیر رسمی گتفگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ تحریک انصاف آج اپنے تحریری مطالبات پیش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تحریری مطالبات تمام اتحادی اپنے پارٹی سربراہ کے سامنے پیش کریں گے، حکومت کی جانب سے بھی تحریک انصاف کو تحریری جواب دیا جائے گا۔

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا اجلاس کچھ دیر بعد ہوگا

اس اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کریں گے، اجلاس میں پی ٹی آئی تحریری طور پر اپنے مطالبات پیش کرے گی۔

عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ31 جنوری کی ڈیڈ لائن سے آگے بھی جایا جا سکتا ہے۔

حکومتی کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ 31 جنوری سے قبل تحریک انصاف کو حکومتی کمیٹی جواب دے گی۔

واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا اجلاس کچھ دیر بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا۔

اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کریں گے، جس میں پی ٹی آئی تحریری طور پر اپنے مطالبات پیش کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: حکومتی کمیٹی عرفان صدیقی تحریک انصاف پی ٹی آئی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا