کندھکوٹ: کووڈ ملازمین مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کر رہے ہیں

کندھکوٹ (نمائندہ جسارت) کووڈ کے دوران بھرتی ملازمین کو مستقل کر کے تنخواہیں نہ دینے پر پیرا میڈیکل اسٹاف کا ڈی ایچ او اور ڈبلیو ایچ او اسد سومرو کی ناانصافیوں کے خلاف احتجاج۔ تفصیلات کے مطابق کووڈ کے دوران بھرتی ملازمین اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے ملازمین نے ڈبلیو ایچ او اسد سومرو کی ناانصافی کے خلاف او پی ڈی کا بائیکاٹ کر کے احتجاج کیا، کووڈ ملازمین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اُٹھا کر تنخواہیں اور مستقل نہ کرنے کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر پیرا میڈیکل اسٹاف ضلعی جنرل سیکرٹری قاضی اعجاز احمد نے کہا کہ کووڈ ملازمین کئی برس سے کام کر رہے ہیں، نہ انہیں پکا کیا جا رہا ہے، نہ انہیں تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ پیرا میڈیکل اسٹاف ضلعی صدر علی حسن قمبرانی نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے بجٹ میں کروڑوں روپے آرہے ہیں، پتا نہیں کہاں ہڑپ ہو رہا ہے؟ اس کے باوجود بھی نا اہل ڈی ایچ او نے ڈیلی 600 روپے تنخواہ اُٹھانے والے ڈیلی ویجز کووڈ اپنے خرچے پر کچے کے علاقوں میں کام پر بھیج دیتا ہے، جو ناانصافی ہے۔ مظاہرین نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت اور دیگر حکام سے کووڈ ملازمین سے ہونے والی ناانصافی اور ملازمین کو پکا کر کے بے چینی ختم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

امریکی عدالت نے وائس آف امریکہ کی بندش رکوادی، ملازمین بحال

واشنگٹن :صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بارپھر خفگی کا سامنا کرنا پڑا ہے جب امریکی عدالت نے ان کے ایک اور حکم نامے کو معطل کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک وفاقی جج نے وائس آف امریکہ کو بند کرنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عمل درآمد سے روک دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے فنڈنگ میں کٹوتیوں کے باعث وائس آف امریکہ اپنی 80 سالہ تاریخ میں پہلی بار خبر رسانی سے قاصر رہا۔
جج رائس لیمبرتھ نے کہا کہ حکومت نے وائس آف امریکہ کو بند کرنے کا اقدام ملازمین، صحافیوں اور دنیا بھر کے میڈیا صارفین پر پڑنے والے اثرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اٹھایا۔عدالت نے حکم دیا کہ وائس آف امریکہ، ریڈیو فری ایشیا اور مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ نیٹ ورکس کے تمام ملازمین اور کنٹریکٹرز کو ان کے پرانے عہدوں پر بحال کیا جائے۔
جج نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ان اقدامات کے ذریعے انٹرنیشنل براڈکاسٹنگ ایکٹ اور کانگریس کے فنڈز مختص کرنے کے اختیار کی خلاف ورزی کی۔
وائس آف امریکہ VOA کی وائٹ ہاوس بیورو چیف اور مقدمے میں مرکزی مدعی پیٹسی وداکوسوارا نے انصاف پر مبنی فیصلے پر عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ حکومت عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم وائس آف امریکہ کو غیر قانونی طور پر خاموش کرنے کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، جب تک کہ ہم اپنے اصل مشن کی جانب واپس نہ آ جائیں۔
امریکی عدالت نے ٹرمپ حکومت کو حکم دیا ہے کہ ان اداروں کے تمام ملازمین کی نوکریوں اور فنڈنگ کو فوری طور پر بحال کرے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر وائس آف امریکہ سمیت دیگر اداروں کے 1,300 سے زائد ملازمین جن میں تقریباً 1,000 صحافی شامل تھے کو جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔وائٹ ہاوس نے ان اداروں پر ” ٹرمپ مخالف” اور “انتہا پسند” ہونے کا الزام لگایا تھا۔وائس آف امریکہ نے ریڈیو نشریات سے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لئے آغاز کیا تھا اور آج یہ دنیا بھر میں ایک اہم میڈیا ادارہ بن چکا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ طویل عرصے سے VOA اور دیگر میڈیا اداروں پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کڑی تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔اپنے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز میں ٹرمپ نے اپنی سیاسی اتحادی کاری لیک کو VOA کا سربراہ مقرر کیا تھا جو ماضی میں 2020 کے انتخابات میں ٹرمپ کے دھاندلی کے دعووں کی حمایت کر چکی ہیں۔

Post Views: 1

متعلقہ مضامین

  • بڑی خبر! مزید یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے کا فیصلہ ، کن ملازمین کو فارغ کیا جائے گا؟
  • تجارتی مسائل دباؤ سے نہیں مذاکرات اور سفارتکاری سے حل کرنے کی ضرورت ہے: عاصم افتخار احمد
  • پہلگام حملہ، کشمیری مسلمان بھارتی صحافیوں کی جانبدارانہ رپورٹنگ پر سراپا احتجاج
  • امریکی عدالت نے وائس آف امریکہ کی بندش رکوادی، ملازمین بحال
  • ملتان میں آزادی صحافت پر حملہ، سینیئر صحافی ارشد ملک اغواء ، صحافتی تنظیمیں سراپا احتجاج ،بازیابی کا مطالبہ
  • ملازمین کو کم سے کم اجرت 37 ہزار نہ دینے والوں کی گرفتاریاں
  • حکومت کا دورہ افغانستان میرے پلان کے مطابق نہیں ہوا، پتا نہیں کوٹ پینٹ پہن کر کیا ڈسکس کیا، علی امین گنڈاپور
  • متنازعہ کینال منصوبوں کے خلاف سندھ کے عوام سراپا احتجاج ہیں، حلیم عادل شیخ
  • ایک ہی بچے کی دو بار پیدائش ؟ میڈیکل کی تاریخ کے حیران کن واقعے کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • ایف بھی آر ملازمین کا ملک گیراحتجاج، قلم چھوڑ ہڑتال کی دھمکی