معروف بھارتی اداکار سیف علی خان آئی سی یو میں منتقل ،حملے کا مرکزی ملزم گرفتار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
بمبئی (نیوزڈیسک) بھارتی معروف اداکار سیف علی خان حملے کے مرکزی ملزم کو ممبئی پولیس نے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کرلیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی پولیس نے 16 جنوری کی صبح سیف علی خان پر چاقو سے حملے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم نے اداکار کی باندرہ میں واقع رہائش گاہ پر فائر اسکپ سیڑھی کے ذریعے سیف علی خان کی 11ویں منزل کی باندرہ رہائش گاہ میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، جہاں اس نے سیف علی خان کو چھ بار چھرا گھونپ دیا۔
خون میں لت پت والد کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال پہنچایا، شدید زخمی سیف کی نیوروسرجری کرنی پڑ گئی، ممبئی پولیس کےمطابق یہ خوفناک واقعہ 16 جنوری کی صبح تقریباً 2:30 بجے پیش آیا جب حملہ آور کو اپارٹمنٹ کے اندرمزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال اس وقت پرتشدد لڑائی میں بدل گئی جب سیف نے اپنے خاندان اور عملے کو بچانے کے لیے مداخلت کی۔
اداکار کو چھریوں کے متعدد زخم آئے جن میں چھاتی اورریڑھ کی ہڈی میں ایک گہری چوٹ بھی شامل ہے۔پولیس نے مزید پوچھ گچھ کے لیے ملزم کو باندرہ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا ۔حملے کے بعد، سیف کو فوری طور پر ممبئی کے لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی ہنگامی سرجری کی گئی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ سیف کی حالت خطرے سے باہر ہے، لیکن وہ آئی سی یو میں زیر نگرانی ہیں۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے دوران معلوم کیا کہ یہ حملہ ڈکیتی کی کوشش کا حصہ تھا، جس کے دوران ملزم نے سیف علی خان کے اہل خانہ سے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔ حملہ آور کو تلاش کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر کارروائیاں کی گئیں، جس میں متعدد پولیس ٹیمیں شامل تھیں۔
سیف علی خان کے ساتھ ساتھ نوکرانی بھی اس واقعے میں زخمی ہوئی، جسے گھسنے والے کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کلائیوں اور ہاتھوں پرچوٹیں آئیں۔سیف علی خان کی صحت یابی کی خبر کے بعد، ان کی اہلیہ کرینہ کپور خان نے انسٹاگرام پر پیغام جاری کیا،
جس میں انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ ان کی پرائیویسی کا احترام کریں تاکہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اس مشکل وقت میں خود کو اور انہیں سنبھال سکیں۔انہوں نے کہا کہ ،مسلسل اور بہت زیادہ جانچ پڑتال ان کے خاندان کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔
نامعلوم شخص کا بھارتی اداکار سیف علی خان پر حملہ، نرس زخمی ، ملزم فرار ہونے میں کامیاب
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سیف علی خان پولیس نے کی کوشش کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر