ہمارا سمجھوتہ آئین کی بالادستی کے ایجنڈے پر ہے، اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہمارا سمجھوتہ صرف آئین کی بالادستی کے ایجنڈے پر ہے۔
اپوزیشن رہنما شاہد خاقان عباسی کی رہائشگاہ پر اپوزیشن اتحاد کی قیادت کے ہمراہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسد قیصر نے کہا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحدوں پر جو ہورہا ہے، ہمیں اس کا احساس ہے۔
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی نےکہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی آئین کی بالادستی کےلیے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا سمجھوتہ صرف ون پوائنٹ ایجنڈے پر ہے وہ آئین کی بالادستی کےلیے ہے ،ہم نے ملک کےلیے آگے بڑھنا ہے۔
اس سے قبل محمود اچکزئی نے کہا کہ آج ہمیں بہت بری خبر ملی تھی کہ عمران خان کو 14 سال قید کی سزا ملی، اچھی خبر یہ ہے کہ شاہد خاقان عباسی آئین کی بالادستی کےلیے ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی نے آئین کی بالادستی کیلئے مل کر چلنے کی دعوت دی ہے، یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور دیگر جماعتیں اس میں شامل ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شاہد خاقان عباسی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔