ملک میں وی پی اینز پر کوئی پابندی نہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی فعال ہیں، شزہ فاطمہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
ملک میں وی پی اینز پر کوئی پابندی نہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی فعال ہیں، شزہ فاطمہ WhatsAppFacebookTwitter 0 17 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ملک میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی اینز) پر کوئی پابندی نہیں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی چل رہے ہیں، سست انٹرنیٹ کی وجہ پچھلی حکومت کا آئی ٹی شعبے میں سرمایہ کاری نہ کرنا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران کیا۔
قبل ازیں قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہا ئو س اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے وقفہ سوالات میں نکتہ اعتراض پر بولنے کی کوشش کی، اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے اجازت نہ دیئے جانے پر اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا۔
پی ٹی آئی کے ارکان نے عمران خان کو رہا کرو اور گولی کیوں چلائی کے نعرے لگائے، قومی اسمبلی کے ایجنڈے کی کاپیں پھاڑی اور ڈیسک بجائے۔اسپیکر نے پی ٹی آئی احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے وقفہ سوالات جاری رکھا۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنا شروع کیا تو ان کی جماعت کے ارکان نے احتجاج اور نعرے لگانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعد ازاں پی ٹی آئی ارکان نے ایوان میں بولنے کی اجازت نہ دینے پر اجلاس سے واک آٹ کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :