بلدیاتی سہولتوں کی فراہمی کا دائرہ کار اب گلی محلوں تک پہنچا دیا‘ محمد مظفر
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیئرمین ناظم آباد ٹائون سید محمد مظفر کاوائس چیئرمین نعمان صدیقی کے ہمراہ ناظم آباد ٹاون کی مختلف یوسیز کا دورہ، علاقوں میں صفائی ستھرائی اور سیوریج لائنوں کی صورتحال کاجائزہ لینے کے ساتھ یوسیز میں جاری ترقیاتی کاموں جن میں پیور بلاک کے زریعے گلیوں کے پختہ کاری، اور دیگر کاموں کا معائنہ کیا، اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ٹاون ہاشم مسعود، ڈائریکٹر سینی ٹیشن ظہیر احمد، XEN واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ظفر ملک، بی اینڈ آر کے عثمان، انچارج اینٹی انکروچمنٹ راشد کمال بھی موجود تھے،چیئرمین ناظم آباد ٹائون سید محمد مظفر نے یونین کمیٹی نمبر 06 ، یونین کمیٹی نمبر 03 میں پیورورک کے کام کے معائنے کے دوران علاقہ مکینوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ناظم آباد ٹائون کی تباہ حال سڑکوں اور گلیوں کو تعمیر و مرمت کر کے بحال کیا جارہا ہے بلدیاتی سہولتوں کی فراہمی کا دائرہ کار اب گلی محلوں تک پہنچا دیا گیا ہے، دستیاب وسائل میں منصفانہ بنیادوں پرعوام کو زیادہ سے زیادہ بلدیاتی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، چیئرمین ناظم آباد ٹائون نے متعلقہ عملے کوہدایت دیتے ہوئے کہا کہ گلیوں کو پختہ کرنے کے لئے میٹریل کا خاص خیال رکھتے ہوئے معیاری میٹریل استعمال کیا جائے تاکہ مضبوط پائیدار گلیوں اور راہ گزر کی تعمیر کی جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناظم ا باد ٹائون
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔