جارحیت پسند بھارتی فوج نے اپنے ہی 12 شہریوں کو بھون ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی فوج نے ریاست چھتیس گڑھ میں باغیوں کے خلاف نام نہاد ملٹرآیپریشن کی آڑ میں 12 شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق سیکورٹی فورسز نے ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع بے جا پور کے علاقوں میں داخلی اور خارجی راستوں کو بند کرکے سرچ آپریشن کیا۔بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن مائو ازم کے حامی باغی جنگجوئوں کے خلاف کیا گیا، جس میں 12 مسلح افراد مقابلے میں مارے گئے۔دوسری جانب عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ بھارتی فوج کی فائرنگ میں مرنے والوں میں خواتین بھی شامل ہیں جبکہ مارے گئے تمام افراد مقامی رہائشی تھے۔تاحال بھارتی فوج مارے گئے افراد سے اسلحہ یا کسی قسم کا ممنوع سامان برآمد کرنے کے دعوے کو ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔چند ماہ قبل ایسے ہی ایک ملٹری آپریشن میں بھی بھارتی فوج کی فائرنگ میں خواتین اور بچے ہلاک ہوگئے تھے جبکہ26 جنگجوئوں کے ہتھیار پھینک کر گرفتاری دینے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ بھارت میں ریاستوں چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش، پنجاب، میزو رام اور منی پور سمیت متعدد ریاستوں میں بھارت سے علیحدگی کی تحریکیں روز بروز مضبوط ہوتی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی فوج
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔