اسلام آباد (نمائندہ  خصوصی) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت حکومت کی رائٹ سائزنگ، اقتصادی رابطہ کمیٹی اور سرکاری اداروں سے متعلق کمیٹیوں کے الگ الگ اجلاس ہوئے جن میں حکومت کی رائٹ سائزنگ، مختلف منصوبوں اور گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ تفصیل کے مطابق حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت اخراجات میں کمی کیلئے تین مرحلوں کی کامیابی سے تکمیل کے بعد حکومت کی رائٹ سائزنگ کے چوتھے مرحلے کا آغاز کردیا جس کے تحت پانچ وزارتوں کی رائٹ سائزنگ کی جائے گی۔ اس حوالے سے حکومت کی تشکیل نو کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس فاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کی تشکیل نو کے لیے چوتھے مرحلے کے آغاز کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ رائٹ سائزنگ کے ان تین مراحل کے عمل کے دوران 43 وزارتوں اور تقریباً 400 منسلکہ اداروں کا جائزہ لیا گیا تاکہ مالی سال کے اختتام سے قبل ان کی تشکیل نو کی جاسکے۔ اجلاس میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ کمیٹی کی جانب سے کیے گئے جن فیصلوں کی فاقی کابینہ منظور ی دے چکی ہے ان پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ان فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت فوڈ سکیورٹی کی طرف سے نیشنل فوڈ سیفٹی اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ ریگولیریٹی اتھارٹی بنانے کے لیے 910 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ ای سی سی نے ای او بی آئی کے آڈ ٹ  میں تاخیر  پر سخت تشویش ظاہر کی ہے اور گذشتہ  مالی سال (2023-24 ( کے  نظرثانی شدہ تخمینہ جات کو منظور نہیں کیا اور اس تاخیر کی  تحقیقات  کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کی طرف سے پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو رواں مالی سال کے دوران  تنخواہیں ادا کرنے کی سمری پیش کی گئی۔ ای سی سی نے فنانس  ڈویژن کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ 935 ملین روپے کی رقم تنخواہ کی مد میں جاری کرے جو ماہانہ بنیاد پر پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کو ادا کی جاتی رہے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاور ڈویژن کی ایک سمری کو منظور کیا گیا جس میں بجلی کے نرخوں کی سالانہ ری بیسنگ اور تعین کی ٹائم لائن کو تبدیل کیا گیا ہے۔ اب سالانہ بنیاد پر نظرثانی  جنوری میں ہوا کرے گی۔ وزارت کامرس کی طرف سے سٹیل کی فنشڈ فلیٹ پروڈکٹس پر ریگولیٹری ڈیوٹیز کے نفاذ کی میعاد بڑھانے کے حوالے سے سمری پیش کی گئی۔ ای سی سی نے ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ کی میعاد میں 31 مارچ 2025 تک تو  سیع کر دی۔ ای سی سی نے کہا کہ اس حوالے سے مزید توسیع منظور نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں وزارت خارجہ امور کے لیے 90.

2 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ ان فنڈز کا استعمال پاکستان ایئر فورس اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کو ادائیگی کے لیے کیا جائے گا۔ اجلاس میں فرنٹیئر کو نارتھ کی آپریشنل ضروریات کے لیے فنڈز کے اجرا کے بارے میں سمری کی منظوری دے دی گئی۔ اس کے تحت 941.4 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ جاری کی جائے گی۔ اجلاس میں گوادر پورٹ کے ذریعے ا فغان  ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولت کے حوالے سے بینک گارنٹی کو انشورنس  گارنٹی سے بدلنے کی منظوری دے دی۔ کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں نے پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کی مالی بہتری کے لئے وزارت اطلاعات ونشریات کی طرف سے پیش کردہ کاروباری منصوبوں کی منظوری دیدی ہے۔ کمیٹی نے کراچی ٹولز، ڈائیز اینڈ مولڈ سینٹر اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن و سکلز ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈز آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی بھی منظوری دیدی۔ اجلاس میں وزارت صنعت و پیداوار کے تحت کام کرنے والے ادارے کراچی ٹولز، ڈائیز اور مولڈ سینٹر (کے ٹی ڈی ایم سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے نجی شعبے سے پانچ امیدواروں کی تقرری اور ساتھ ہی بلحاظ عہدہ  ڈائریکٹرز کی تین سال کی  مدت کیلئے تقرری کی منظوری دی۔ عبدالرزاق گوہر  بورڈ کے چیئرمین مقررکئے گئے ہیں، اس  تشکیل نو کا مقصد کارپوریٹ گورننس کو بہتر بنانے اور ادارے کے لئے مؤثر فیصلہ سازی کو یقینی بنانا ہے۔ اجلاس میں ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور سکلز ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو کی بھی منظوری دی گئی۔ کمیٹی نے نجی شعبے سے چھ بنیادی امیدواروں اور بلحاظ عہدہ   ڈائریکٹرز کی تین سال کی مدت کیلئے تقرری کی منظوری دی۔ محمد نور الدین داؤد کو بورڈ کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اجلاس میں وزارت کی منظوری دے دی کی رائٹ سائزنگ ڈائریکٹرز کی کی منظوری دی ملین روپے کی کی تشکیل نو کی طرف سے حکومت کی حوالے سے کمیٹی نے کرنے کی کے لیے کے تحت

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ