آئی ایم ایف نے وزارت توانائی کا 3 سالہ مارجنل انرجی پیکج مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
اسلام اّباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2025ء) آئی ایم ایف نے وزارت توانائی کا صنعتوں کیلئے 3 سالہ مارجنل انرجی پیکج مسترد کر دیا۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت توانائی کے حکام آئی ایم ایف کو مارجنل انرجی پیکج پر متفق کرنے میں ناکام رہے، آئندہ اقتصادی جائزہ مذاکرات میں نئی تجاویز کے ساتھ دوبارہ پیکج تیار کر کے بات چیت ہو گی۔
(جاری ہے)
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مارجنل کاسٹ پر اے آئی، ڈیٹا مائننگ اور انڈسٹری کیلئے 3 سال کے لیے انرجی پیکج تھا، ملک میں اس وقت 8 ہزار سرپلس بجلی ہونے کے باعث مارجنل پیکج تیار کیا گیا تھا، اضافی بجلی کے استعمال پر فی یونٹ ریٹ میں ٹیکسوں کی کمی کے لیے تجویز تیار کی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وزارت توانائی سے سو فیصد ریکوری نہ ہونے کے باعث پیکج منظور نہیں کیا، اضافی بجلی کے استعمال پر صرف پیداواری لاگت اور کپیسٹی چارجز کی رقم عائد ہونا تھی، پیداواری لاگت اور کپیسٹی چارجز کے علاوہ باقی تمام بشمول ٹیکسز ختم کرنے کی تجویز تھی۔ذرائع نے کہا کہ آئی ایم ایف نے مارجنل پیکج کی منظوری سو فیصد ریکوری سے منسلک کر دی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ا ئی ایم ایف نے وزارت توانائی انرجی پیکج
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔