اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے نیا جامع فریم ورک جاری کرتے ہوئے تمام بینکوں اور ریگولیٹڈ اداروں (REs) کو ہدایت دی ہے کہ وہ کاروباری صارفین، خواہ وہ آن لائن ہوں یا اسٹور میں، کو ڈیجیٹل پیمنٹ کی سہولیات فراہم کریں۔

بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے عمل میں اہم تبدیلیاں

بینک اکاؤنٹ کھلوانے کا عمل تمام بینکوں میں یکساں اور آسان بنایا گیا ہے۔

دستاویزی تقاضے کم کر دیے گئے ہیں۔

بینکوں کو عام عوام کے لیے 2 دن کے اندر اکاؤنٹ کھولنے کی پابندی ہوگی۔

صارفین اب اپنے اکاؤنٹ کی درخواست کا اسٹیٹس آن لائن ٹریک کر سکیں گے۔

تمام اقسام کے بینک اکاؤنٹس اب ڈیجیٹل طریقے سے کھلوائے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان کی 79 فیصد آبادی بینک اکاؤنٹ یا موبائل منی تک رسائی سے محروم ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک

اسٹیٹ بینک کے نئے فریم ورک کا مقصد اکاؤنٹ کھلوانے کے عمل کو سادہ، معیاری اور صارف دوست بنانا ہے۔ اب صارفین کو کم کاغذی کارروائی کے ساتھ، مختلف بینکوں میں یکساں طریقہ کار کے تحت، آسانی سے اکاؤنٹ کھلوانے کی سہولت دستیاب ہوگی۔

بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عام عوام کے لیے اکاؤنٹ کھولنے کا عمل 2 دن سے زائد نہ ہونے دیں، اور ہر صارف کو اپنی درخواست کی پیش رفت معلوم کرنے کی سہولت فراہم کریں تاکہ شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ اقدامات مالی شمولیت کے فروغ اور صارفین کی آسانی کے لیے اسٹیٹ بینک کی جاری کوششوں کا حصہ ہیں۔ اس سے قبل بھی SBP نے برانچ لیس بینکنگ، آسان اکاؤنٹس، ڈیجیٹل آن بورڈنگ اور خصوصی اکاؤنٹ کیٹیگریز (فری لانسرز، ترسیلات زر کے وصول کنندگان، اور بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے) متعارف کرائی تھیں۔

تاجر برادری کے لیے سہولت

کاروباری طبقے، خصوصاً چھوٹے تاجروں کو ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے کے لیے، SBP نے ہدایت دی ہے کہ ہر تاجر (نئے یا موجودہ) کو کم از کم ایک ڈیجیٹل پیمنٹ ایکسیپٹنس سلوشن فراہم کیا جائے، جیسے کہ راست کیو آر کوڈ، پوائنٹ آف سیل (POS) مشین، ای کامرس یا راست چیک آؤٹ سہولت۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان میں کتنے فری لانسرز کے پاس بینک اکاؤنٹس ہیں؟

چھوٹے تاجروں کی آسان آن بورڈنگ اور کم لاگت ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی کے لیے، SBP نے REs کو ہدایت دی ہے کہ وہ تاجروں کو ’مائیکرو‘، ’سمال‘ اور ’رجسٹرڈ‘ کیٹیگریز میں تقسیم کریں۔

یہ اقدامات نہ صرف بینکاری نظام سے باہر رہنے والے افراد اور کاروباروں کو مرکزی دھارے میں لانے میں مدد دیں گے، بلکہ نقدی پر مبنی لین دین کو بھی ڈیجیٹل بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہوں گے۔ اس نئے فریم ورک میں بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ریگولیٹری تحفظات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینک اکاؤنٹ کھلوانے کا عمل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک ا ف پاکستان اسٹیٹ بینک ہدایت دی کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ