کینیڈا نے خبردارکیا ہے کہ امریکا نے تجارتی جنگ شروع کی تو جواب میں ٹرمپ ٹیکس عائد کردیں گے۔

کینیڈا کی وزیرخارجہ میلانے جولی نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین مصنوعات پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ کیا تو جوابی کارروائی کے طور پر امریکیوں پر ٹرمپ ٹیکس لگایا جائے گا۔ ہم اپنی طرف سے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔

کینیڈین وزرخارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا نے ہمارے خلاف تجارتی جنگ شروع کی تو یہ دہائیوں بعد کینیڈا اور امریکا کے درمیان بہت بڑی تجارتی جنگ ہوگی۔ ٹرمپ نے ٹیکس عائد کیا تو کینیڈا نے بھی جوابی اقدامات کی تیاری کر لی ہے۔

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنی معاشی اور خارجہ پالیسی کے منصوبے کے تحت کینیڈا سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیکس عائد کریں گے۔ ٹرمپ کی مجوزہ پالیسی کے تحت میکسیکو، چین اور دیگر تجارتی شراکت دار ملکوں سے آنے والی درآمدات پر بھی کسٹم ڈیوٹی بڑھائی جائے گی۔ ٹرمپ کی مجوزہ پالیسی پر عملدرآمد کے نتیجے میں کینیڈا کے صارفین اور اُن کی ملازمتوں پر بہت بڑا اثر پڑے گا۔

اوٹاوا میں کینیڈین حکومت کے ذرائع نے غیرملکی خبر ایجنسی کو بتایا کہ امریکی ٹیکس کے جواب میں کینیڈا کے حکام امریکا سے آنے والے سامان پر کسٹم ڈیوٹی بڑھانے پر غورکر رہے ہیں۔پہلے مرحلے میں کینیڈا کی حکومت امریکی اسٹیل کی مصنوعات، ٹائلٹس اور سنک کے سیرامکس، شیشے سے بنی اشیا اور اورنج جوس پر ٹیکس بڑھائے گی جس کو توسیع بھی دی جا سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: تجارتی جنگ

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان