راولپنڈی؛ تین بچوں کی ماں سے دو افراد کی مبینہ زیادتی، ملزمان نازبیا وڈیو بھی بناتے رہے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
راولپنڈی:
تھانہ نیو ٹاون کے علاقے ڈبل روڈ پر ملازمت دلانے کے جھانسہ دیکر تین بچوں کی ماں سے دو افراد نے مبینہ زیادتی کی جبکہ ملزمان خاتون کی نازیبا ویڈیو بھی بناتے رہے۔
متاثرہ خاتون انصاف حاصل کرنے تھانہ نیو ٹاون پہنچی تو پولیس نے روایتی حربے استعمال کرتے ہوئے مدعیہ کے سامنے بٹھا کر صلح کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔
سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کے نوٹس لینے پر ملزمان کی خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ متاثرہ خاتون کا وڈیو بیان بھی منظر پر آگیا۔
پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں خاتون کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی رہائشی ہوں، تین بچے ہیں اور خاوند سے علیحدگی ہوچکی ہے، اب والدین کی پاس رہتی ہوں۔
متاثرہ خاتون کے مطابق کال سینٹر میں ملازمت کے دوران فری نامی خاتون سے ملاقات ہوئی، حالات پوچھنے پر اس کو بتایا کہ معاملات اچھے نہیں جس پر اس نے بہتر ملازمت دلانے کے لیے سبز باغ دکھائے۔ گھر میں وجود تھی کہ فون کرکے ڈبل روڈ بلوایا جہاں پہنچنے پر دیکھا کہ خانون سمیت دو افراد موجود تھے جنہوں نے اسلحے کی نوک پر مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزمان دھمکیاں دیکر نازیبا وڈیو بھی بناتے رہے۔
متاثرہ خاتون کا وڈیو بیان بھی منظر عام پر آگیا جس میں خاتون کو تھانہ نیو ٹاون میں پولیس عملے کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے متعلق الزام عائد کرتے بھی سنا جا سکتا ہے۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ تھانے میں مجھے سامنے بٹھا کر قانونی کارروائی کی صورت میں تھانے کچہری کے چکر اور خرچے کا کہہ کر صلح کے لیے دباو ڈالا جاتا رہا۔
وڈیو بیان میں متاثرہ خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف کی فراہمی کی اپیل بھی کر رہی ہے۔
معاملہ سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کے نوٹس میں آیا تو متاثرہ خاتون کے بیان پر خاتون ملزمہ سمیت دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
ادھر ایکسپریس نے واقعہ اور خاتون کو تھانے میں ہراساں کرنے کے متعلق پولیس کا موقف جاننے کے لیے ایس ایچ او نیو ٹاون انوار الحق سے رابطے کی کوشش کی لیکن نہ تو جواب ملا اور نہ فون اٹینڈ کیا گیا جبکہ پولیس ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تھانے رابطہ کرکے بتایا کہ اندراج مقدمہ کے بعد سے متاثرہ خاتون نے رابطہ نہیں کیا جبکہ تھانے میں مدعیہ کو پولیس کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام کی نفی کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متاثرہ خاتون کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔