پڈعیدن،نواحی علاقوں میں پولیس کا کریک ڈائون جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
پڈعیدن( نمائندہ جسارت) نواحی علاقوں میں پولیس کا کریک ڈائون 9 ملزمان گرفتار، ڈکیتی کے دوران چھینی گئی 58000 نقدی،2500 گرام چرس، 7 لیٹر شراب،گیمبلنگ آرٹیکلز اور چھینی گئی موٹرسائکل برآمد، مقدمات درج۔تفصیلات کے مطابق ٹھاروشاہ تھانہ کی پولیس نے ڈکیتی کے مقدمہ میں گرفتار ملزم سے ڈکیتی دوران چھینی گئی نقدی برآمد کرلی،دوران انٹروگیشن گرفتار ملزم عاشق اجن کی نشاندہی پر چھینی گئی رقم 58000 برآمد کی گئی۔ٹھاروشاہ،ہالانی اور مورو تھانوں کی پولیس نے الگ الگ کارروائیوں میں 3 منشیات فروشان کو گرفتار کرلیا،گرفتار منشیات فروش ملزمان،ملوک کلھوڑو سے 2000 گرام چرس،شبیر سولنگی سے 500 گرام چرس،مہران ماچھی سے 7 لیٹر شراب،برآمد کرکے، متعلقہ تھانوں پر سرکار کی مدعیت میں مقدمات درج کرلیے گئے ۔ مورو پولیس نے جوئے کے اڈے پر چھاپے کے دوران 5 جواری ملزمان کو گرفتار کرلیا،گرفتار ملزمان میں گلفام سولنگی، اظہر، فیض، جاوید اور مظہر چانڈیو شامل ہیں، کنڈیارو پولیس نے دوران اسنپ چیکنگ چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد کرلی،برآمد شدہ موٹرسائیکل تصدیق کے بعد اصل مالک راجا امان اللہ منگریو کے حوالے کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔