ایم ڈی کیٹ امیدواروں کی سوالنامہ اجرا کی درخواست، آئی بی اے اور دیگر کو جواب جمع کروانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
سندھ ہائی کورٹ نے ایم ڈی کیٹ کے امیدواروں کی سوالنامے کے اجراء کی درخواست پر آئی بی اے اور دیگر جواب جمع کروانے کی ہدایت کردی۔
ہائیکورٹ میں ایم ڈی کیٹ کے امیدواروں کی سوالنامے کے اجراء کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ فریقین کی جانب سے جواب جمع نہ کروایا جاسکا۔ عدالت نے سماعت 24 جنوری تک ملتوی کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک آئی بی اے اور دیگر جواب جمع کروانے کی ہدایت کردی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ ایم ڈی کیٹ کے جوابات کی شیٹ فراہم کی گئی لیکن سوالنامہ فراہم نہیں کیا گیا۔ سوالنامہ کے بغیر سوالات کی جانچ ممکن نہیں ہے۔ ایم ڈی کیٹ میں غلطی یا سلیبس سے باہر کے سوالات ہوسکتے ہیں۔پنجاب اور کے پی میں ایم ڈی کیٹ امیدواروں کو جوابات کی شیٹ کے ساتھ سوالنامے کی کاپی فراہم کی گئی۔ سوالنامہ جاری کرنے اور تصدیق تک ایم ڈی کیٹ کے حتمی نتائج جاری کرنے سے روکا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جواب جمع
پڑھیں:
100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
اسلام آباد: 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے، یہ سوال اکثر موبائل صارفین کے ذہن میں آتا ہے۔ پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے لاکھوں پری پیڈ صارفین ہر ریچارج پر مختلف ٹیکس ادا کرتے ہیں، جس کے باعث مکمل رقم بطور بیلنس دستیاب نہیں ہوتی۔
موجودہ ٹیکس نظام کے مطابق اگر کوئی صارف 100 روپے کا موبائل لوڈ کرواتا ہے تو اس کے موبائل اکاؤنٹ میں استعمال کے لیے صرف 72 روپے 77 پیسے کا بیلنس دستیاب ہوتا ہے، جبکہ 27 روپے 23 پیسے مختلف ٹیکسوں کی مد میں منہا کر لیے جاتے ہیں۔
100 روپے کے لوڈ پر کتنی کٹوتی ہوتی ہے؟
سرکاری ٹیکس نظام کے مطابق سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 13 روپے 4 پیسے کٹ جاتے ہیں۔
اس کے بعد باقی رہ جانے والی رقم پر 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کیا جاتا ہے، جس کے باعث مزید تقریباً 14 روپے 19 پیسے کی کٹوتی ہوتی ہے۔
یوں مجموعی طور پر 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے کا جواب یہ ہے کہ صارف کو صرف 72.77 روپے ہی استعمال کے لیے ملتے ہیں۔
پری پیڈ صارفین پر زیادہ بوجھ
ماہرین کے مطابق پری پیڈ موبائل صارفین مجموعی طور پر تقریباً 34.5 فیصد ٹیکس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 20 کروڑ سے زائد موبائل صارفین موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد پری پیڈ کنکشن استعمال کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل سروسز اور انٹرنیٹ پر زیادہ ٹیکس عائد ہونے سے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ کم آمدنی والے صارفین کے لیے رابطے اور انٹرنیٹ کی سہولت مزید مہنگی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موبائل سروسز پر ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں بھی اضافہ ممکن ہے۔