مقبوضہ کشمیر میں پراسرار بیماری سے 16 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوی کے گائوں بدھل میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 16 افراد کی پراسرار بیماری سے اموات واقع ہو گئی۔
پراسرار بیماری سے مرنے والے افراد میں نیوروٹوکسن کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے نیوروٹوکسن ایک کیمیکل یا مادہ ہے جو اعصابی بافتوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور انسانی اعصابی نظام پر سنگین اثرات مرتب کرتا ہے۔
بعض کیمیائی آلودگیاں جیسے پالیمیرائزڈ کیمیکلز یا ہیوی میٹلز (سیسہ، پارہ، ایٹم وغیرہ) نیوروٹوکسن کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 16 افراد کی پراسرار اموات نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، 7 دسمبر سے 17 جنوری کے درمیان ہونے والی اموات میں متاثرین نے بخار، درد، متلی اور ہوش میں کمی کی شکایات کی۔
حکام کے مطابق بیشتر متاثرین ایک ہی خاندان سے ہیں جس نے مقامی سطح پر مزید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین صحت نے تحقیقات کے دوران نیوروٹوکسن کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ اصل سبب کا پتا چل سکے، مقبوضہ کشمیر میں نیوروٹوکسن کا جان بوجھ کر استعمال خارج از امکان نہیں۔
امکان ہے کہ یہ انسانیت سوزکام کشمیریوں کی دشمن بھارتی فوج کی جانب سے کیا گیا ہو، یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مخصوص علاقوں میں کھاد یا دیگر ذرائع سےنیوروٹوکسن کا استعمال ہو رہا ہے۔
مودی سرکار کی جانب سے تحقیقات کا آغاز تو کیا گیا ہے تاہم ماضی میں ہونے والی تحقیقات کی طرح یہ بھی محض اعلان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
بھارت کی ریاست آسام میں شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق شدید سیلابی صورتحال سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 7 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
دریائے برہم پترا کے پانی میں اضافے سے تقریباً 900 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ تقریباً 3 لاکھ افراد کو سرکاری ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں خوراک اور امدادی سامان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔
ریاستی دارالحکومت گوہاٹی سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آنے سے آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق مسلسل بارشوں اور دریا کی بلند سطح کے باعث صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور متاثرہ علاقوں میں مزید امدادی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔