ٹرمپ کی تقریب حلف براداری کا دعوت نامہ ملا، ملکی حالات کے باعث معذرت کرلی، عارف علوی کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
ٹرمپ کی تقریب حلف براداری کا دعوت نامہ ملا، ملکی حالات کے باعث معذرت کرلی، عارف علوی کا دعوی WhatsAppFacebookTwitter 0 20 January, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )سابق صدر پاکستان اور پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مجھے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف براداری کا دعوت نامہ ملا، میں نے پاکستان کے حالات کے باعث معذرت کرلی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر عارف علوی نے کہا کہ مذاکرات سے ہی مسائل حل ہوتے ہیں، تحریک انصاف مذاکرات کے حق میں ہے، ہمارے مزاکرات 2 سطح پر ہورہے ہیں اور ان سے بھی جاری ہیں جن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں زیادتی کا بازار گرم ہے، ہمارے لوگوں کو اغوا کیا گیا دہشتگرد بھی ہم بن گئے، بانی پی ٹی آئی کو سزا سنانے پر عدلیہ کو خود بھی شرم آنی چاہیے، کوئی کرپشن نہیں کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایاگیا، پھربھی سزا سنادی گئی، اس فیصلے سے پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے ہی مسائل حل ہوتے ہیں، تحریک انصاف مزاکرات کے حق میں ہیں، ہمارے مذاکرات 2سطح پر ہورہے ہیں، مذاکرات ان سے بھی جاری ہیں جن کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ مجھے ٹرمپ کی تقریب حلف براداری کا دعوت نامہ ملا ہے۔ میں نے پاکستان کے حالات کے باعث معزرت کرلی، میں دعوت دینے پر ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
عارف علوی نے کہا کہ پاکستان میں ہمیں خود تبدیلی لانی چاہیئے۔ حکومت پربیرونی دبا آنا چاہیئے پاکستان پر نہیں، جوبائیڈن نے ہماری حکومت ختم کی تھی یہی بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں انسانی حقوق کیلئے بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کرنی چاہیے۔ ملک میں زیادتی کا بازار گرم ہے، ہمارے لوگ قتل ہوئے، ہمارے لوگوں کو اغوا کیا گیا دہشتگرد بھی ہم بن گئے، ان حالات میں بھی ہم مزاکرات سے مسائل کا حل چاہتے ہیں، مجھے دہشتگرد بنادیا گیا ہے لیکن اصل دہشتگرد آزاد گھوم رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حالات کے باعث عارف علوی
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔