اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔21 جنوری ۔2025 )پاکستان تحریک انصاف کےسیکرٹری جنرل سلمان اکرم را جہ نے کہا ہے کہ مذاکرات کیلئے کوئی تیسرا دروازہ نہیں کھلا، یہ سب حکومتی بوکھلاہٹ ہے،جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا جاتا تو پھر ہماری طرف سے مذاکرات ختم ہوگئے،ہم آئین قانون کے مطابق کیسز کا سامنا کررہے ہیں، پشاور میں امن وامان کی صورتحال پر میٹنگ تھی، شاید حکومت گھبرا گئی کہ ہاتھ سے بات نہ نکل جائے، میرے علم میں نہیں کہ اکیلے بھی کوئی بات ہوئی.

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ایک دور وز تک نظرثانی اپیل دائر ہوجائے گی، ہمیں فیصلے پر کوئی پریشانی نہیں ، یہ مضحکہ خیز فیصلہ ہے، اس فیصلے میں ایک بات کی گئی ہے کہ جو پیسہ برطانیہ سے ریاست پاکستان کوملنا تھاوہ پیسا عمران خان اور شہزاد اکبر نے بزنس ٹائیکون کے جرمانوں والے اکاﺅنٹ میں منتقل کروا دیا جبکہ اس میں حکومت پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے.

انہوں نے کہاکہ مقدمے اور سزا دینے کیلئے این سی اے کی پریس ریلیز کو بنیاد بنایا گیا وہ پریس ریلیز جو ٹیلی گراف میں شائع ہوئی ساری رقم بزنس ٹائیکون فیملی سے رجسٹرارسپریم کورٹ کے اکاﺅنٹ میں آتی ہے جو رقم اکاﺅنٹ میں موجود تھی وہ رقم سپریم کورٹ نے 2023میں حکومت کو دینے کا فیصلہ دیا کابینہ جو دستاویز پیش کی گئی وہ ایک معمول کی خفیہ دستاویزبنائی گئی تھی.

معاہدے میں کہا گیا کہ خفیہ دستاویزکو عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے برطانوی عدالت نے بالکل فیصلہ نہیں دیا کہ یہ رقم ریاست پاکستان کی ہے تاثر دیا گیا کہ جیسے رقم چکمہ دے کرسپریم کورٹ اکاﺅنٹ میں منتقل کرائی گئی اور این سی اے کو دھوکہ دیا گیا 190 ملین پاﺅنڈ کیس میں کچھ بھی نہیں یہ سیاسی بنیاد وں پر بنایا گیا جبکہ این سی اے کو کوئی چکمہ نہیں دیا گیا این سی اے نے معاہدے میں کہا کہ رقم سپریم کورٹ اکاﺅنٹ میں جمع کروائیں تاکہ رقم کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے کہ اس رقم کا کیا کرنا ہے.

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اگر جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا جاتا تو پھر ہماری طرف سے مذاکرات ختم ہوگئے،حکومتی کمیٹی کامﺅقف ہے کہ جوڈیشل کمیشن نہیں بن سکتاتوپھر مذاکرات نہیں ہوں گے، ہمارا مﺅقف ہے کہ 9 مئی واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کیوں غائب کی گئی؟جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ ہے کہ کیوں مخصوص فوٹیج جاری نہیں کی گئی.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جوڈیشل کمیشن اکاﺅنٹ میں نے کہا کی گئی

پڑھیں:

نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا۔

نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق  سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔

سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول  کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی  نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔

اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں  کر سکتی۔

آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی