افغانستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، ژوب میں ہلاک دہشتگرد افغان تھا: آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع ژوب کے سرحدی علاقے سمبازہ میں ہلاک ہونے والا دہشت گرد افغان شہری تھا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 11 جنوری کو بلوچستان کے ضلع ژوب کے سرحدی علاقے سمبازہ میں دہشت گردی میں ملوث ایک افغان شہری ہلاک ہوا۔ دہشت گرد کی شناخت محمد خان احمد خیل کے نام سے ہوئی، جو حاجی قاسم داوران خان کا بیٹا اور افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع وزیرخوا کے گاؤں بِلورائی کا رہائشی تھا۔ ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد 20 جنوری کو اس کی لاش عبوری افغان حکومت کے حکام کے حوالے کر دی گئی۔ یہ واقعہ پاکستان میں دہشت گردی میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔ عبوری افغان حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔