سندھ ہائی ویز ایمپلائز یونین سی بی اے کا مطالبات منوانے کیلیے احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2025 GMT
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی ویز ایمپلائز یونین سی بی اے کی جانب سے مطالبات منوانے کے لیے پریس کلب کے سامنے یونین کے رہنمائوں قربان سومرو، غلام حیدر اور موریل پنہور سمیت دیگر کی قیادت میں احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر رہنمائوں نے کہا کہ محکمہ ہائی ویز کے ملازمین بنیادی سرکاری سہولیات اور حقوق سے محروم ہیں جس کے سبب ملازمین میں سخت مایوسی پائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی ویز ایمپلائز یونین سندھ کی جانب سے کئی بار چیف انجینئر کو چارٹر آف ڈیمانڈ بھی پیش کر چکے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، جائز مطالبات میں ملازمین کی ترقی، گروپ انشورنس، پے اسکیل ریوائز سمیت دیگر بنیادی مطالبات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش کی گئی وفاقی پنشن کی نئی پالیسی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئی پنشن پالیسی واپس لے کر ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کر کے دیگر بنیادی مسائل حل کیے جائیں، دوسری صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہائی ویز
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔