ڈیفالٹ کا خواب دیکھنے والوں کو ملکی ترقی ہضم نہیں ہو رہی، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈیفالٹ کا خواب دیکھنے والا ملک دشمن ٹولہ بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کرتا ہے ، ایسے عناصر کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی، برادر ممالک کے تعاون سے پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہوا۔وزیر اعظم شہباز شریف سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزارتِ اطلاعات کے اعلی افسران، چیئرمین پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن میاں عامر محمود، میر ابراہیم، ناز آفرین سہگل، سلطان لاکھانی، سلمان اقبال، شکیل مسعود، ندیم ملک اور کاظم خان شریک تھے ۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اور میڈیا کا باہمی اعتماد کا رشتہ ہے ، حکومتی پالیسیوں پر میڈیا کی تعمیری تنقید گورننس کی بہتری کیلئے بہت ضروری ہے ، میڈیا کی تعمیری تنقید کا حکومت خیر مقدم کرتی ہے ، ملک میں اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہے اور حکومت میڈیا کے ریاست کا چوتھا ستوں ہونے پر یقین رکھتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اڑان پاکستان مقامی طور پر تیار کردہ ملکی ترقی کا منصوبہ ہے جس کو میڈیا اور تمام سٹیک ہولڈرز کے تعاون سے کامیاب بنائیں گے ، اللہ کے فضل و کرم سے ملکی استحکام کے بعد پاکستان کی ترقی کی رفتار 2018 پر جہاں روکی گئی، وہیں سے دوبارہ شروع ہو چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے میاں نواز شریف کی قیادت میں ترقی کا سنہری دور دیکھا اور آج بھی انکی قیادت میں معاشی استحکام کے بعد ترقی کا سفر زور و شور سے جاری ہے ، دوست اور برادر ممالک کے انتہائی مشکور ہیں، ان کے تعاون سے پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے واپس آ کر معاشی ترقی کی طرف گامزن ہوا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح اور شرحِ سود میں خاطر خواہ کمی کا سہرا معاشی ٹیم کی محنت کو جاتا ہے ، برآمدات میں اضافہ، صنعتی و زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت حاصل ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کا نفاذ بھرپور طریقے سے جاری ہے ، ایف بی آر کی مکمل ڈیجیٹائزیشن پر تیزی سے کام کر رہے ہیں، کسٹمز کے نظام کی بہتری کیلئے فیس لیس اسیسمنٹ کا نظام شروع کیا جا چکا ہے ، اس نظام سے محصولات میں اضافے کے ساتھ ساتھ شفافیت میں اضافہ اور کرپشن کے خاتمے میں معاونت ملے گی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات، چینی، کھاد اور آٹا وغیرہ کی سمگلنگ کی روک تھام سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچا، ترسیلاتِ زر میں اضافہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد میں اضافے کی عکاسی ہے ، دوست ممالک سے تعلقات میں اضافہ اور سفارتی محاذ پر کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔دہشت گردی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی جنگ میں پوری قوم نے قربانی دی، افواج پاکستان سمیت پوری قوم اس ناسور کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ثمرات ملنا شروع ہوگئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ شہباز شریف میں اضافہ نے کہا کہ کی ترقی
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔