کوئٹہ، 4 دہشتگرد کمانڈرز قومی دھارے میں شامل، وزراء کیساتھ پریس کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے والے کمانڈر نجیب اللہ نے کہا کہ غیر ملکی ایجنسی نے مجھ سے کہا کہ ہمیں بلوچستان کی آزادی سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم آپکو صرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے استعمال کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ مختلف دہشت گرد تنظیموں کو چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے والے کمانڈرز نے کوئٹہ میں صوبائی وزراء اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی بلوچستان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خود کو ریاست پاکستان کے سپرد کرنے کا اعلان کر دیا۔ مذکورہ کمانڈرز میں نجیب اللہ عرف درویش عرف آدم، عبدالرشید عرف خدائیداد عرف کماش اور دیگر شامل ہیں۔ قومی دھارت میں شامل ہونے والے کمانڈر نجیب اللہ نے کہا کہ ریاست پاکستان اور انکی سیکیورٹی فورسز کو بھرپور نقصان پہنچایا۔ غیر ملکی ایجنسی نے مجھ سے کہا کہ ہمیں بلوچستان کی آزادی سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم آپ کو صرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے استعمال کریں گے۔ دہشت گرد کمانڈر نجیب اللہ نے کہا کہ بلوچ آزادی پسند لیڈران بیرون ملک بیٹھ کر عیاشی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ پہاڑوں پر لڑنے والے بلوچوں کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ہوتی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ دہشت گردوں کے ہینڈلرز معصوم بچوں کو سبز باغ دکھا کر پہاڑوں پر لے جاتے ہیں۔ حکومت ہتھیار ڈالنے والوں کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتی ہے۔ پہاڑوں پر بیٹھے گمراہ افراد کیلئے راستہ کھولا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نجیب اللہ نے کہا کہ
پڑھیں:
دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں بھارت کا کردار بالکل واضح ہے، جبکہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم ملکی استحکام، دفاع اور قومی یکجہتی میں اس کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ترجیح دی اور قیامِ پاکستان میں بھی بلوچستان کے عوام نے تاریخی کردار ادا کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے مستونگ میں سیشن جج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایک وقت ایسا تھا جب ملک سے دہشت گردی کا تقریباً مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج کا مقابلہ پوری قوم کو متحد ہو کر کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیاں عالمی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کی عکاس ہیں۔ انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے باہمی تعاون سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور پاکستان کو معاشی ترقی، امن اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچایا جائے گا۔