وفاق اور سندھ نے کراچی کی ترقی پر کتنا پیسہ خرچ کیا؟سندھ ہائیکورٹ نے جواب مانگ لیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے وفاق اور صوبائی حکومت سے کراچی کی ترقی پر خرچ کی گئی رقم کی تفصیلات طلب کرلیں۔ ہائی کورٹ میں کراچی کے پارکس اور کھیل کے میدانوں کی بحالی کے لیے سامان کی خریداری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ وکیل کلک نے موقف دیا کہ تمام خریداری شفاف طریقے سے کی گئی ہے، سامان کی خریداری عالمی پروکیورمنٹ کے ضوابط کے تحت کی جاتی ہے۔ منصوبے کے لیے ورلڈ بینک کی فنڈنگ موصول ہوئی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پارکس اور کھیل کے میدانوں کی بہتری کے لیے سرکار کا بین
الاقوامی فنڈنگ پر انحصار کرنا حیران کن ہے۔ وفاقی حکومت گزشتہ 3 برس کے دوران شہر سے وصول کردہ ٹیکس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرے، شہر سے وصول کیا گیا ٹیکس اور ڈیوٹی کی رقم اور اس کی ڈالر میں تبدیلی کرکے بتایا جائے۔ عدالت نے کہا کہ یہ بھی بتایا جائے کہ وفاق کے ٹیکس وصولی میں کراچی کا کتنا فیصد حصہ بنتا ہے‘ عدالت نے صوبائی حکومت سے بھی گزشتہ 3 برس کے دوران شہر سے جمع کردہ ٹیکس اور ڈیوٹی کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی، بتایا جائے کہ صوبائی حکومت کے ٹیکس میں کراچی کا کتنا فیصد حصہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہ بھی بتائیں کہ شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے کتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے، عدالت نے وفاق اور صوبائی حکومت سے شہر کی ترقی پر خرچ کی جانے والی رقم کی تفصیلات طلب کرلیں۔
سندھ ہائی کورٹ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت عدالت نے خرچ کی کے لیے
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔