صنعتی شعبے کیلئے گیس ٹیرف میں اضافے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT
سٹی 42 : اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے صنعتی شعبے کے لیے گیس ٹیرف میں اضافے کی منظوری دے دی ۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ای سی سی نے صنعتی شعبے کے لیے گیس ٹیرف میں اضافے کی منظوری دے دی، کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس ٹیرف کو 3000 سے بڑھا کر 3500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
گھریلو صارفین کے لیے گیس ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا، ای سی سی نے گھریلو صارفین کے لیے اضافہ مسترد کر دیا ۔
منہاج یونیورسٹی لاہور : "ورلڈ اسلامک اکنامکس اینڈ فنانس کانفرنس" کا آغاز
اجلاس میں وزارت پیٹرولیم کی جانب سے صنعتی شعبے اور غیر محفوظ گھریلو زمرہ جات کے لیے گیس ٹیرف میں اضافے کی تجویز پر غور کیا گیا ۔ ای سی سی نے وزارت پیٹرولیم کو ہدایت دی کہ کیپٹو پاور پلانٹس پر گرڈ ٹرانزیشن لیوی کے نفاذ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کے لیے گیس ٹیرف میں صنعتی شعبے کی منظوری
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔