اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے جامع کوششیں جارہی ہیں، چیئرمین ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ ملک میں اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے جامع کوششیں جارہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسٹمز میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لارہے ہیں اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہےہیں، ہم خدمات میں بہتری کے ساتھ ساتھ استعداد کار بڑھانے پر بھی توجہ دے رہے ہیں، جدید قومی ریاست میں سرحدوں کی حفاظت اہم ترین جز ہے۔
یہ بھی پڑھیے:ایف بی آر نومبر کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں سپلائی چین انتہائی پیچیدہ ہوچکی ہے۔ ٹیکنالوجی سے محض سسٹم کو نہیں بدلا جاسکتا، ہمیں تنظیمی سالمیت کو بھی فروغ دینا ہوگا، فیس لیس اسسمنٹ سسٹم سے متعلق مثبت تاثرات ملے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی بندرگاہ پر کسٹمز کلیئرنس کے خود کار نظام ’فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم‘ کا افتتاح 8 جنوری کو کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف بی آر سمگلنگ کسٹمز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر سمگلنگ ایف بی کے لیے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔