اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے جامع کوششیں جارہی ہیں، چیئرمین ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2025 GMT
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ ملک میں اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے جامع کوششیں جارہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسٹمز میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لارہے ہیں اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھا رہےہیں، ہم خدمات میں بہتری کے ساتھ ساتھ استعداد کار بڑھانے پر بھی توجہ دے رہے ہیں، جدید قومی ریاست میں سرحدوں کی حفاظت اہم ترین جز ہے۔
یہ بھی پڑھیے:ایف بی آر نومبر کے لیے ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ دنیا میں سپلائی چین انتہائی پیچیدہ ہوچکی ہے۔ ٹیکنالوجی سے محض سسٹم کو نہیں بدلا جاسکتا، ہمیں تنظیمی سالمیت کو بھی فروغ دینا ہوگا، فیس لیس اسسمنٹ سسٹم سے متعلق مثبت تاثرات ملے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی بندرگاہ پر کسٹمز کلیئرنس کے خود کار نظام ’فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم‘ کا افتتاح 8 جنوری کو کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف بی آر سمگلنگ کسٹمز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر سمگلنگ ایف بی کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔