الخدمت فاؤنڈیشن کا 15ارب سے غزہ بحالی پراجیکٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
7اکتوبر وہ بدقسمت دن تھا جب غزہ کے لاکھوں فلسطینیوں پر مسلط ہونے والی اسرائیلی جنگ نے ان کیلئے زندگی مشکل بنا دی اس جنگ کے آغاز ہی سے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن ،سیکرٹری جنرل سید وقاص انجم جعفری صاحب کی نگرانی میں ساڑھے 5 ارب روپے مالیت سے غزہ کے محصورین کیلئے امدادی سرگرمیاں شروع کر دی تھیں سینئرمنیجر میڈیا ریلیشنز الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان شعیب ہاشمی نے۔ بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت 16 ائیر کارگو طیارے۔3بحری جہاز،اردن قاہرہ سے 50امدادی ٹرک 3,310ٹن کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی گئیں۔الخدمت اکیڈمک سکالرشپ پروگرام کے تحت 400 میڈیکل و انجینئرنگ کے طلباء کی ماہانہ مالی معاونت ،2الخدمت غزہ سکول جبکہ قائرہ میں غزہ کے مہاجرین کیلئے الخدمت سکولز میں 300 طلبہ و طالبات کی تعلیمی معاونت کی الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے تحت اہل غزہ و مہاجرین کیلئے اب تک 35000فوڈ بیگز۔225?066 فوڈکین 171?398پک پکائے کھانے کے فوڈ کین ،14000آٹے کے تھیلے ،20892 چاول بیگز،17442افطارپیک،88000پانی کی بوتلیں ،522?000 جیری کین ،اور 59?512دیگر فورڈ اشیاء فراہم کی گئیں ۔
اسرائیل حماس میں جنگ بندی معاہدے کے بعد الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کی جانب سے غزہ میں جاری امدادی سرگرمیوں اور بحالی و تعمیرنو کے حوالے سے الخدمت فاؤنڈیشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن، سیکرٹری جنرل سید وقاص جعفری اور نائب صدور سمیت دیگر ذمہ داران نے خصوصی اجلاس میں شرکت کی۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمنٰ نے غزہ کی عوام کے لیے جاری امدادی سرگرمیوں اور بحالی و تعمیر نو کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے گزشتہ 15 ماہ میں ساڑھے 5 ارب روپے کی امدادی سرگرمیوں کے بعدا گلے 15 ماہ کے لیے ریلیف اور بحالی و تعمیر کے لیے 15 ارب روپے سے ’’ری بلڈ غزہ‘‘ مہم کا آغاز کر دیا ہے جس میں متاثرین کو عارضی شیلٹر، اشیائے ضروریات، اشیائے خوردونوش ، طبی سہولیات، ایمبولینس، موبائل ہیلتھ یونٹس، ادویات اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ابتدائی طور پر غزہ میں1 ہسپتال کی بحالی، مکمل یا جزوی طور پر متاثرہ 5 سکولوں کی تعمیر نو اور 25 مساجد کی تعمیر و بحالی کی جائے گی۔ غزہ کے متاثرین کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے 100سے زائد صاف پانی کے منصوبہ جات، مکانات اور چھت کی فراہمی کے لیے رہائشی ٹاوراور 3000 یتیم بچوں کی مستقل کفالت منصوبے کا حصہ ہے۔ صدر الخدمت نے مزید کہا کہ غزہ کی موجودہ صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے بلکہ غزہ کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہونے کے باعث لاکھوں متاثرین بے سر و سامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کی عوام نے پہلے بھی اہل غزہ کے لیے دل کھول کر مدد کی اور ہمیں یقین ہے کہ اب بھی اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی بحالی و تعمیر نو کے لیے آگے بڑھیں گے۔الخدمت اس سلسلے میں اپنے پارٹنر اداروں کے اشتراک سے فیلڈ میں موجود ہے اور اہل غزہ کے لیے ہر ممکن امداد جاری رکھے ہوئے ہے دوسری طرف امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے دوحہ قطر میں حماس کے سربراہ حسن درویش، سابق سربراہ خالد مشعل، مرکزی رہنما ڈاکٹر خلیل الحیہ اور دیگر مرکزی قائدین سے ملاقات کی جماعت اسلامی کے ڈائریکٹر امور خارجہ آصف لقمان قاضی بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے اور پندرہ ماہ تک مکمل ثابت قدمی کے ساتھ مزاحمت کرنے پر اہل غزہ اور حماس کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے لاکھوں کارکنان اہل غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے موجود رہے ہیں۔ الخدمت فاؤنڈیشن کل بھی اہل غزہ کے شانہ بشانہ تھی اور آئندہ بھی رہے گی، پاکستان کے عوام غزہ کی تعمیر نو میں اپنا فرض ادا کریں گے۔ ہم اس اہم موڑ پر اہل پاکستان کی جانب سے اظہار یکجہتی کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ ہم اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار اور غزہ کے ساٹھ ہزار شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں۔ حماس اور اہل غزہ نے پوری امت کے لئے ایک قابل تقلید مثال پیش کی ہے۔ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اسرائیل اپنے جنگی اہداف کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ فلسطین کی سرزمین مکمل طور سے فلسطینیوں کا وطن ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر صرف ایک ریاست کا جائز وجود ہے اور وہ فلسطین ہے۔ فلسطین کی سرزمین کے ایک انچ پر بھی اسرائیل کا وجود ناقابل قبول ہے۔ فلسطین اور القدس کی مکمل آزادی تک اہل فلسطین کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
حماس کے سربراہ حسن درویش نے اہل فلسطین کی جانب سے جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کی ریلیف سرگرمیوں اور پاکستان کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان نے ماضی میں بھی امت کے مسائل کے حل کے لئے قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی ہم ان سے کلیدی کردار کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد غزہ کے عوام لاکھوں کی تعداد میں اپنے تباہ حال گھروں کو واپس لوٹیں گے۔ بحالی اور تعمیر نو کے کام میں ہم پاکستان کی حکومت اور عوام سے تعاون کی امید رکھتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے حماس کی قیادت کو یقین دلایا کہ وہ ہر فورم پر فلسطین کی آزادی کی آواز اٹھا تے رہیں گے۔ بین الاقوامی شہرت رکھنے والی ممتاز شخصیات کا ایک وفد تشکیل دیا جائے گا جو بعض اہم ممالک کا دورہ کرے گا۔ امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں وزیر اعظم اور دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے رابطہ کریں گے اس ملاقات کے فوراً بعد امیر جماعت اسلامی نے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کو غزہ کے متاثرین کے لئے فوری طور سے دس ہزار خیمے بھیجنے کی ہدایت کی۔
ماہ رمضان المبارک اہل ایمان پر سایہ فگن ہونے والا ہے الحمدللہ اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد میں اہلِ ثروت حضرات انفاق فی سبیل اللہ کی راہ میں اربوں روپے مستحقین میں تقسیم کرتے ہیں کاروبار سے وابستہ صنعتکار کارخانہ دار تاجر حضرات اس کار خیر کے کام میں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں ہم اس ضمن میں اہلِ ثروت حضرات سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں تعمیر بحالی کے منصوبے میں الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے ساتھ حسب سابق مالی تعاون کریں پاکستانی قوم نے اسلامی ایمانی، انسانی، فلاحی جذبے کے تحت فلسطین سمیت جہاں کہیں بھی مسلم ممالک کے عوام کو ناگہانی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا اور الخدمت فاؤنڈیشن کی ٹیم نے اہل پاکستان کی ترجمانی کرتے ہوئے امانت دیانت کے ساتھ فلسطین کے مظلوموں اور سیلاب زلزلہ یا کوئی اور ناگہانی آفت کے متاثرین تک امداد پہنچائی ہے پاکستان کے تمام چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز۔تنظیم تاجران پاکستان۔ انجمن تاجران پاکستان مارکیٹوں کی آرگنائزیشنز، ٹرانسپورٹرز اور دیگر کاروبار سے وابستہ بزنس مین عوام الناس کے تمام طبقات الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے غزہ فلسطین کی تعمیر و بحالی کے پروگرام میں مالی تعاون کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Nai Baat
کلیدی لفظ: بحالی و تعمیر جماعت اسلامی پاکستان کی اہل غزہ کے فلسطین کی کی تعمیر انہوں نے کرتے ہیں کے ساتھ کے عوام کے تحت کے لئے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔